اور تم ہمارے پاس(مرنے کے بعد) تنہا تنہا ہو کر آگئے جس طرح ہم نے تم کو دنیا میں اوّل مرتبہ پیدا کیا تھا (کہ ہر شخص الگ الگ پیدا ہوتا تھا) اور جو کچھ ہم نے تم کو (دنیا میں مال و متاع،سازوسامان) عطاکیا تھا، اس کو وہیں چھوڑ آئے۔
فائدہ: یعنی جس طرح آدمی ماں کے پیٹ سے بغیرمال متاع پیدا ہوتا ہے، اسی طرح قبرکی گود میں تنِ تنہا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ مال ومتاع یہاں کا یہاں ہی رہ جائے گا، بجز اس کے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں اپنی زندگی میں جمع کرا دیا ہو کہ وہ سب جمع شدہ مال وہاں پورا پورا مل جائے گا،بلکہ سرکاری خزانہ سے اس میں اضافہ بھی ملے گا۔
۱۱۔ وَغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا (الأعراف : ع۶)
اور دنیا کی زندگی نے ان کودھوکا میں ڈال رکھا ہے۔
۱۲۔ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوْا الْکِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ ھٰذَا الْاَدْنٰی وَیَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا (الأعراف : ع۲۱)
پس (نیک بندوں کے بعد) ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے کہ کتاب کو تو ان سے حاصل کیا، (لیکن ایسے حرام خور ہیں کہ کتاب کے اَحکام کے بدلہ میں) اس دنیائے فانی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہماری ضرورمغفرت ہو جائے گی۔ (کیوںکہ ہم اللہ کے لاڈلے ہیں)
۱۳۔ وَالدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ط اَفََلَا تَعْقِلُوْنَ o (الأعراف : ع۲۱)
اور آخرت کاگھر بہتر ہے متقی لوگوں کے واسطے کیاتم بالکل عقل نہیں رکھتے؟ (جو ایسی کھلی ہوئی صاف بات بھی نہیں سمجھتے)
۱۴۔ وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلاَدُکُمْ فِتْنَۃٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ o (الأنفال : ع ۳)
تم اس بات کوجان رکھو کہ تمہارے اموال اورتمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے (تاکہ ہم اس کا امتحان کریں کہ کون شخص اس کی محبت کو ترجیح دیتا ہے اور کون شخص اللہ تعالیٰ کی محبت کو ترجیح دیتا ہے)۔ اور اس بات کو بھی جان رکھو کہ (جو شخص اللہ تعالیٰ کو ترجیح دیتا ہے دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی کے لیے کارآمد بناتا ہے، اس کے لیے) اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔
۱۵۔ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ (الأنفال: ع۹)
تم تو دنیا کا مال واسباب چاہتے ہو اور اللہ (تم سے) آخرت کو چاہتے ہیں۔ یعنی یہ کہ تم آخرت کی فکر میں ر ہو، اس کی تیاری میں ہر وقت مشغول رہو۔
۱۶۔ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَۃِ ج فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلاَّ قَلِیْلٌ o (التوبۃ : ع۶)