کہ کانٹوں سے نفرت دلائیں اور گل و غنچہ کی محبت بڑھائیں، اِسلام اِصلاح کی یہی صورت اِختیار کرتاہے، وہ جو دو سخا کے چمن و گلشن کواِتنا بڑھاتا ہے کہ خارستانِ بخل ختم ورنہ زیادہ سے زیادہ تنگ ہوجائے، نہ صرف اِسلام بلکہ ایشائی تہذیب کا اُصولی سبق یہی ہے وہ سخاوت اور جودو کرم کو اِنسانیت کاسب سے بہتر جوہر اور بخل کو لعنت اور سرا سر لعنت قررا دیتی ہے۔
سخاوت مس عیب را کیمیا ست سخاوت ہمہ دردہا را دوا ست ١
(شیخ سعدی)
سخیاں زا موال برمے خورند بخیلاں غمِ سیم و زر مے خورند
نیرزد بخیل آن کہ نامش بری وگر روزگارش کند چاکری ٢
بخل اور نفع اَندوزی کامقام اور راستہ :
لیکن قرآنِ حکیم جو خالقِ فطرت کاکلامِ پاک ہے وہ اِسی پر قناعت نہیں کرتا کہ بخل کی مذمت اور سخاوت کی تعریف کر دے، وہ جس طرح سخاوت و بخل کی خصوصیات سے واقف ہے وہ اِنسانی نفسیات سے بھی باخبر ہے، صرف منفی پہلو پر اُس کی نظر نہیں رہتی وہ مثبت کے اثبات کو سامنے لاتاہے اور اُسی کو بڑھانے اور مضبوط کرنے کی تعلیم دیتا ہے، کوئی تعلیم جس کی بنیاد حقائق پر ہو اِس کو نظر اَنداز نہیں کر سکتی کہ بخل اور ذاتی مفاد کی حرص و طمع اگرچہ قبیح اور قابلِ نفرت ہے مگر اِنسان کی فطرت میں لامحالہ داخل ہے اور اُس کا جزو ہے،اِسی کا تقاضا ہوتا ہے کہ اِنسان سخت سے سخت محنت کرتا ہے اور
١ ترجمہ : سخاوت عیب دار تانبے کے لیے کیمیا ہے،سخاوت تمام دردوں کی دوا ہے۔
٢ ترجمہ : سخی اپنے مال سے فائدہ اُٹھاتے ہیںبخیل سونے چاندی کا غم کھاتے ہیں ،بخیل آدمی اِس قابل نہیں کہ اُس کا نام لیا جائے اگرچہ سارا زمانہ اُس کا غلام ہوجائے۔