Deobandi Books

اسباب فسخ نکاح - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

12 - 25
وجہ :  (۱) اوپر کے جتنے دلائل ہیں انکے علاوہ  یہ دلیل ہے ۔ (۲)  سألت سعید بن المسیب عن الرجل لا یجد ما ینفق علی امرأتہ ؟ قال یفرق بینھما قال قلت : سنۃ ؟ قال نعم سنۃ ۔( مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل لا یجد ما ینفق علی امرأتہ ، ج سابع ، ص ۷۱، نمبرع ۱۲۴۰۵؍مصنف ابن ابی شیبۃ ، باب ما قالوا فی الرجل یعجز عن نفقۃ امراؤتہ یجبر علی ان یطلق امراأتہ ام لا ، و اختلافھما فی ذالک ، ج رابع، ص۱۷۴، نمبر۱۹۰۰۶) اس اثر میں ہے کہ خرچ کرنے کا نہ ہو تفریق کردی جائے گی ۔ (۳) عن حماد قال اذا لم یجد الرجل ما ینفق علی امراتہ فرق بینھما ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل لا یجد ما ینفق علی امرأتہ ، ج سابع ، ص ۷۱، نمبر۱۲۴۰۶) اس اثر میں ہے کہ خرچ کرنے کا نہ ہو تفریق کردی جائے گی ۔ 
فائدہ :  حنفیہ کااصل فتوی یہ ہے کہ عورت قرض لیتی رہے ، اور تفریق نہ کرائی جائے ۔ 
وجہ :  (۱) انکی دلیل یہ ہے کہ تفریق کرنے سے شوہر کا نقصان ہے جو نفقہ نہ ادا کرنے سے زیادہ بڑا نقصان ہے۔اس لئے تفریق نہیں کی جائے گی اور نفقہ کا نقصان قرض لینے سے پورا ہو جائے گا۔اس لئے عورت کو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا (۲) اثر میں ہے۔عن الحسن قال اذا عجز الرجل عن نفقۃ امرأتہ لم یفرق بھا ۔وقال الزھری تستأنی بہ  ،قال وبلغنی ان عمر بن عبد العزیز قال ذلک ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، ۱۹۷ ماقالوا فی الرجل یعجز عن نفقۃ امرأتہ یجبر علی ان یطلق امرأتہ ام لا واختلافھما فی ذلک ،ج رابع، ص ۱۷۵، نمبر ۱۹۰۰۹؍۱۹۰۰۸؍ مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل لا یجد ما ینفق علی امرأتہ، ج سابع ،ص۷۱ نمبر ۱۲۴۰۳) اس اثر سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی میں تفریق نہ کرائے بلکہ عورت شوہر کے ذمے قرض لیتی رہے (۳) حضرت ابو سفیان کی بیوی کی حدیث بھی مستدل بن سکتی ہے جس میں حضرت ابو سفیان پورا نفقہ نہیں دیتے تھے تو آپؐ نے فرمایا۔ خذی مایکفیک وولدک بالمعروف ۔ (بخاری شریف، باب اذا لم ینفق الرجل فللمرأۃ ان تأخذ بغیر علمہ ما یکفیھا وولدھا بالمعروف، ص ۸۰۸ نمبر ۵۳۶۴) 
(۴) اس دور میں شوہر کے ذمے قرض لینا مشکل ہے اور اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے عورت مجبور ہوتی ہے اس لئے حالات سنگین ہوتو تفریق کرادے  ۔

﴿(۵)  بیوی کو سخت مار پیٹ کرنا ۔﴾ 
 اگر شوہر بیوی کو برا بھلا کہے ، ایسی گالی دے جو عورت کے لئے انتہائی تحقیر اور اذیت کا باعث ہو ، یا سخت مار پٹائی کرے ، یا بار بار کرتا رہے جس سے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے تو اس کو تفریق کروانے کا حق حاصل ہو گا ۔ (مجموعہ قوانین دفعہ ۸۱،ص۱۹۹)
وجہ : (۱) عن حکیم بن معاویۃ القشیری عن ابیہ قال قلت یا رسول اللہ ! ما حق زوجۃ أحدنا علیہ ؟ قال ان تطعمھا اذا طعمت و تکسوھا اذا اکتسیت او اکتسبت و لا تضرب الوجہ و لا تقبح و لا تھجر الا فی البیت ۔ ( ابو داود شریف ، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ، ص ۳۰۹، نمبر ۲۱۴۲) (۲) اس حدیث میں بھی ہے ۔عن جدہ معاویۃ القشیری قال أتیت رسول اللہ  ﷺ قال فقلت ما تقول فی نسائنا ؟ قال أطعموھن مما تأکلون و اکسوھن مما تکسون و لا تضربوھن و لا تقبحوھن۔ ( ابو داود شریف ، باب فی حق المرأۃ علی زوجھا ، ص۳۱۰، نمبر۲۱۴۴)  ان دونوں حدیثوں میں ہے کہ عورت کو نہ سخت مارمارے ، اور نہ بری گالی دے۔(۳) اس حدیث میں ہے کہ عورت کو اتنا مارا کہ اس کا بازو توڑ دیا تو حضور ؐ نے اس کو عورت کو جدا کرنے کے لئے فر مایا ، حدیث یہ ہے ۔  عن عائشۃ أن حبیبۃ بنت سھل کانت عند ثابت بن قیس بن شماس فضربھا فکسر بعضھا فأتت النبی  ﷺ بعد الصبح فاشتکتہ الیہ فدعا النبی  ﷺ ثابتا فقال خذ بعض مالھا و فارقھا فقال ویصلح ذالک یا رسول اللہ ؟ قال نعم قال فانی أصدقتھا حدیقتین و ھما بیدھا فقال النبی ﷺ  خذھما ففارقھا ففعل ۔( ابوداود شریف، باب فی الخلع ، ص۳۲۳، نمبر ۲۲۲۸) (۴) اور آیت میں جو مارنے کا حکم ہے وہ تھوڑا مار ہے جس  سے عورت کی اصلاح ہو جائے ، لیکن ایسی مار جو اذیت ناک ہو اور جس سے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے ممنوع ہے ۔ آیت یہ ہے ۔ و التٰی تخافون نشوزھن فعظوھن و اھجروھن فی المضاجع و أضربوھن فان اطعنکم فلا تبغواعلیہن سبیلا ان اللہ کان علیا کبیرا۔(آیت ۳۴، سورۃ النساء ۴)  کا ترجمہ ہے تھوڑا بہت مار پٹائی کرے اس قول تابعی میں اس کا ثبوت ہے ۔  عن قتادۃ فی قولہ و اضربوھن (آیت ۳۴، سورۃ النساء ۴) قال یضرب ضربا غیر مبرح۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب و اضربوھن ، ج سادس، ص ۳۸۹، نمبر 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
18 عرض مؤلف 4 1
19 ﴿ اس زمانے میں فسخ نکاح کی ضرورت کیوں پڑگئی؟ ﴾ 5 1
20 ﴿ اسباب فسخ کا اہم اصول﴾ 5 1
21 ﴿ اور شقاق کی صورت میں فیصل کو تفریق کرنے کا حق ہے﴾ 6 1
22 ﴿اختلافی صورت میں قاضی کا فیصلہ قابل نفاذ ہے ﴾ 6 1
23 ﴿شرعی پنچائت مذہب مالکی سے مأخوذ ہے ﴾ 7 1
24 ﴿اسباب فسخ نکاح 18 ہیں ﴾ 8 1
25 ﴿ہر ایک سبب کی تفصیل ﴾ 9 24
26 ﴿(۱) زوجین میں شقاق پا یا جانا﴾ 9 24
27 ﴿(۲) شوہر کا حقوق زوجیت ادا نہ کرنا ﴾ 10 24
28 ﴿(۳) شوہر کا استطاعت کے باوجود نفقہ نہ دینا ﴾ 11 24
29 ﴿(۴) شوہر کا نفقہ سے عاجز ہو نا ﴾ 11 24
30 ﴿(۵) بیوی کو سخت مار پیٹ کرنا ۔﴾ 12 24
31 ﴿(۶) شوہر کا مفقود الخبر ہو نا ﴾ 13 24
32 ﴿(۷) شوہر کا غائب غیر مفقود ہو نا﴾ 14 24
33 ﴿(۸) اختلاف دارین کی وجہ سے حق زوجیت ادا نہ کر سکنا ﴾ 15 24
34 ﴿(۹) شوہر کا وطی پر قادر نہ ہو نا یعنی عنین ہو نا ﴾ 15 24
35 ﴿(۱۰) شوہر کا مجنون ہو نا ﴾ 16 24
36 ﴿(۱۱) شوہر کا جذام ، برص، یا اس جیسے موذی مرض میں مبتلاء ہو نا﴾ 17 24
37 ﴿(۱۲)غیر کفو میں نکاح کرنا ﴾ 17 24
38 ﴿(۱۳)مہر میں غیر معمولی کمی ﴾ 19 24
39 ﴿(۱۴)مرد کا اپنی حالت کے بارے میں عورت کو دھوکہ میں ڈال کر نکاح کرنا ﴾ 20 24
40 ﴿(۱۵)خیار بلوغ ﴾ 20 24
41 ﴿(۱۶)حرمت مصاحرت کی وجہ سے تفریق ﴾ 20 24
42 ﴿(۱۷)فساد نکاح کی وجہ سے تفریق﴾ 22 24
43 ﴿(۱۸)غیر مسلم حاکم سے فسخ نکاح ﴾ 22 24
44 ﴿ برطانیہ میں میں غیر مسلم کورٹ سے طلاق (separation) ﴾ 23 1
45 ﴿ اچانک تین طلاق واقع ہوگئی تو راستہ کیا ہے﴾ 25 1
Flag Counter