فوقف النبی ا فقال اعطونی ردائی لوکان لی عدد ھذہ العضاہ نَعَمُ لقسمتہ بینکم ثم لا تجدونی بخیلاً ولاکذوباً ولاجباناً (رواہ البخاری،مشکوة صفحہ ٥١٩)
حضرت جبیر بن مطعم صاس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں ،جب وہ رسول اللہ ا کے ہمراہ غزوہ حنین سے واپس آرہے تھے کہ ''راستے میں ایک مقام پر''کچھ (غریب) دیہاتی آپ ا کو لپٹ گئے اور غنیمت کا مال مانگنے لگے اور اس حد تک پیچھے پڑ گئے کہ آپ ا کو ''کھینچتے ہوئے''ایک کیکر کے درخت تک لے گئے ،وہاں آپ اکی چادر کیکر کے کانٹوں میں الجھ کر رہ گئی۔ آپ ا (بڑی بے چارگی کے ساتھ) رک گئے اور فرمایا : لائو ! میری چادر تو دے دو…اگر میرے پاس ان خاردار درختوں کے برابر بھی چوپائے یعنی بکریاں اور اونٹ وغیرہ ہوتے تو میں ان سب کو تمھارے درمیان تقسیم کر دیتا،اور تم جان لیتے کہ نہ میں بخیل ہوں … نہ جھوٹا وعدہ کرنے والا…اور نہ جھوٹے دل والا ہوں…(بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ مال موجود تھا اور عطا فرمایا جیسے حضرت انس ص کی روایات میں ہے)
عن انس ص ان رجلا سال النبی اغنماًبین جبلین فاعطاہ ایاہ فاتی قومہ فقال ای قوم اسلموا فواللہ ان محمد ا لیعطی عطاء مایخاف الفقر (رواہ مسلم مشکوة صفحہ ٥١٩)
حضرت انس ص فرماتے ہیں…ایک شخص نے آپ اسے اتنی بکریاں مانگیں جو پہاڑوں کے درمیانی نالے کو بھر دے، چنانچہ آپ انے اسے اتنی ہی بکریاں دے دیں ، اس کے بعد وہ شخص اپنی قوم میں آیا اور کہا…اے میری قوم کے لوگو…اسلام قبو ل کر لو… اللہ تعالیٰ کی قسم محمد ا اتنا دیتے ہیں کہ افلاس اور محتاجی سے بھی نہیں ڈرتے۔
عن انس ص قال کنت امشے مع رسول اللہ ا وعلیہ برد نجرانی