غلیظ الحاشیة فادر کہ اعرابی فجبذہ بردائہ جبذة شدیدة ورجع نبی اللہ ا فی نحر الا عرابی حتی نظرت الی صفحة عاتق رسول اللہ ا قد اثرت بھا حاشیة البرد من شدة جبذتہ ثم قال یا محمد مرلی من مال اللہ الذی عندک فالتفت الیہ رسول اللہ ا ثم ضحک ثم امرلہ بعطائ(متفق علیہ مشکوة صفحہ ٥١٨)
حضرت انس صفرماتے ہیں کہ (ایک دن میں رسول اللہ ا کے ساتھ چل رہا تھا) اس وقت آپ اکے جسم پریمن کے شہر''نجران'' کی بنی ہوئی (دھاری دھار)چادر تھی جس کے کنارے دبیز اور موٹے تھے،(اچانک راستے میں )ایک دیہاتی آپ ا سے مل گیا اور اس نے (اپنی طرف متوجہ کر نے کے لیے) آپ ا کی چادر کو پکڑ کر اتنی زور سے کھینچا کہ نبی ا کھیچ کر اُس کے سینے کے قریب آلگے …میں نے نظر اٹھا کر دیکھا … اس دیہاتی کا اس قدر سختی سے چادر کھینچنے سے… آپ اکی گردن مبارک پر چادر کے کنارے کی رگڑ کا نشان پڑ گیا… پھر اس دیہاتی نے کہا…اے محمد ا…تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کاجو مال ہے … اس میں سے مجھے کچھ دلائو… آپ ا نے پہلے تو ''حیرت کے ساتھ''اس کی طرف دیکھا …پھر(ازراہِ تلطف )مسکرائے اور اس کو کچھ دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا ۔
فرمایا جہنم پر وہ شخص حرام ہے جو لین …نرم مزاج ہو… بھیڑیا نہ ہو… آج ہر آدمی بھیڑیا بننے کے چکر میں ہے… میرے اندر خوب شدت ہو… دوسروں پر میرا رعب ہو …انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آ گے فرمایا آ پ انے… ''قریب'' وہ شخص جو'' ھین'' ہو…''لین'' ہو… ''قریب'' صاحب حاجت کے لیے وہ قریب بھی ہو… جب بھی کوئی ملنا چاہے اس سے مل