Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق ربیع الاول 1436ھ

ہ رسالہ

2 - 20
نبوت محمد صلى الله عليه وسلم اور اس کی نشانیاں

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ
ترجمہ وتوضیح: مولانا حبیب الله زکریا
رفیق شعبہ تصنیف وتالیف واستاد جامعہ فاروقیہ کراچی
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سیرت ان کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے، ان کے اخلاق، ان کے اقوال ، ان کے افعال او ران کی شریعت ان کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے، آپ کی امت آپ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے، آپ کی امت کا علم اور ان کا دین آپ کی نبوت کی علامات میں سے ہے، آپ کی امت کے نیک لوگوں کی کرامتیں آپ علیہ السلام کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے ۔

خالص اور معزز نسب
یہ ساری چیزیں اسی وقت ظاہر وباہر ہو سکتی ہیں جب ان کی سیرت میں ان کی ولادت سے نبوت ملنے تک ، نبوت ملنے کے وقت سے آپ علیہ السلام کے وصال تک کے حالات دیکھے جائیں، جب ان کے نسب ، ان کے شہر، ان کے اصول او ران کی فروع میں غور وفکر کیا جائے، کیوں کہ آپ اہل زمین میں باعتبار نسب سب سے معزز ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خالص نسل سے تعلق رکھتے ہیں، وہ ابراہیم علیہ السلام جن کی نسل میں الله تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو رکھا، چناں چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، کو دو صاحب زادے حضرت اسماعیل وحضرت اسحق علیہما السلام عطا فرمائے اور تورات میں۔ اِن کا اوراُن کا (دونوں کا)ذکر فرمایا اور اس میں خوش خبری دی اس کی جو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہو گا اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے علاوہ کوئی دوسرے فرد ایسے نہ تھے جس میں وہ ساری علامتیں اورنشانیاں ظاہر ہوئی ہوں جن کی بشارت دی گئی تھی ۔

ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی قبولیت
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے الله تعالیٰ سے یہ التجا فرمائی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجیں۔ پھر ان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کے خالص ترین لوگوں میں سے قریش میں پیدا کیا، پھر قریش کے خالص ترین لوگوں ،یعنی بنی ہاشم میں پیدا کیا اور شہرمکہ میں جو کہ ام القری ہے اور اس گھر کے شہر میں جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا اور لوگوں کو اس کے حج کی طرف بلایا، چناں چہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے آج تک اس کا قصد کیا جاتا ہے، یہ شہر انبیائے سابقین کی کتابوں میں اچھے او راعلیٰ اوصاف کے ساتھ مذکور ہے۔

دشمنوں کی آپ کے حق میں گواہی
آپ صلی الله علیہ وسلم لوگوں میں تربیت اور پرورش کے اعتبار سے کامل واکمل تھے، آپ سچائی، عدل اور اچھے اخلاق کے ساتھ مشہور تھے، بری باتوں، ظلم کے چھوڑنے اور ہر برائی کو چھوڑنے میں معروف تھے، آپ کے لیے ان سب امور کی گواہی ان لوگوں نے دی ہے جو آپ کو نبوت کے قبل سے جانتے تھے، اگرچہ ان میں سے بعض تو آپ پر ایمان لائے اور بعض نے نبوت کے بعد بھی کفر اختیار کیا، مگر ان امور عالیہ کی گواہی بہرحال دی ،آپ کے بارے میں کسی ایسی چیز کا علم نہیں جس کے ذریعے آپ کو عیب دار کیا جائے، اقوال میں، نہ افعال میں اور نہ ہی اخلاق میں۔ کبھی ان سے جھوٹ صادر ہوا، نہ ظلم اور نہ ہی کوئی اور بری بات۔

ان کی خلقت اور صورت اکمل ،اتم اور جامع تھی، باعتبار ان محاسن کے جو آپ کے کمال پر دلالت کرتے تھے، جب کہ انہوں نے لوگوں کے علوم میں سے کچھ پڑھا، نہ ہی اہل علم کے ساتھ بیٹھے ، جب تک ان کی عمر کے چالیس سال پورے نہ ہو گئے آپ نے نبوت کا دعوی بھی نہیں کیا۔

ایسا کلام جس کی نظیر پہلوں نے سنی نہ اگلوں نے
اس دعویٴ نبوت کے بعد آپ ایک ایسے امر کو لے کر آئے جو تمام امور میں سب سے زیادہ تعجب خیز اور بڑا تھا، ایسا کلام لے کر آئے جس کی نظیر پہلوں نے سنی، نہ ہی اگلوں نے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں ایسی چیز کی خبر دی کہ اس کے مثل ان کے شہر اور قوم میں کوئی بھی نہ جانتا تھا، نہ اس سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد جانا گیا، نہ شہروں میں سے کسی شہر میں اور نہ زمانوں میں سے کسی زمانے میں جانا گیا کہ جو کچھ بھی آپ لے کر آئے ہیں اس کے مثل کوئی لایا ہو، نہ آپ کی طرح کوئی غالب ہوا او رنہ ہی کوئی دوسرا آپ کی طرح کی نشانیاں اور عجائبات لے کر آیا اور نہ ہی اور کسی نے ایسی شریعت کی طرف دعوت دی جو آپ کی شریعت سے زیادہ کامل ہو اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جس کا دین تمام ادیان پر علم وحجت ، طاقت قوت کے اعتبار سے آپ کے دین کی طرح غالب آیا ہو ۔

انبیاء کی اتباع ہمیشہ کمزوروں نے کی
پھر انبیائے کرام علیہم السلام کے متبعین ہی نے آپ علیہ السلام کی اتباع کی اور وہ ( ہمیشہ کی طرح) ضعیف وکمزور لوگ تھے، اہل حکومت نے آپ کو جھٹلایا، ان کو ایذائیں پہنچائیں اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو ہلاک کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں، جیسا کہ پہلے سے کفار انبیا اور ان کے متبعین کے ساتھ کرتے آئے تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی اتباع جن لوگوں نے کی وہ کسی رغبت یا خوف کی وجہ سے نہیں کی، کیوں کہ آپ کے پاس کوئی مال نہیں تھا کہ آپ ان کو اس سے نوازتے ، نہ ہی شان وشوکت کا کوئی مرتبہ کہ جو ان لوگوں کو سونپتے، نہ ہی کوئی تلوار تھی کہ کہ اس کے زور پر ان سے ایمان لانے کا مطالبہ کرتے، بلکہ تلوار، مال اور شان وشوکت ان کے دشمنوں کے پاس تھی۔ اورکفار مکہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے متبعین کو مختلف قسم کی اذیتیں دیں اور وہ لوگ صبر کرنے والے اور اس صبر پر اجر کی امید رکھنے والے تھے اور وہ لوگ اپنے دین سے سرموانحراف نہیں کرتے تھے کہ ان کے دلوں میں ایمان اور معرفت کی مٹھاس گھل مل گئی تھی۔

اہل مدینہ کی آپ سے ملاقات
اہل عرب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے مکہ مکرمہ کا قصد کرتے آئے ہیں تو عرب کے قبائل حج کے ایام میں جمع ہوتے تو آپ ان کی طرف نکلتے، ان کو پیغام رسالت پہنچاتے اور ان کو الله کے دین کی دعوت دیتے، اس تکلیف پر صبر کرتے ہوئے جو ان کو جھٹلانے سے، دھوکا کرنے والے کے دھوکے سے اور اعراض کرنے والے کے اعراض سے ہوتی تھی، یہاں تک کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ملاقات اہل مدینہ سے ہوئی اور وہ یہود کے پڑوسی تھے، یہود سے انہوں نے آپ علیہ السلام کے بارے میں سن رکھا تھا، چناں چہ جب آپ نے ان کو دین کی دعوت دی تو وہ آپ کو پہچان گئے اور اہل مدینہ کو معلوم ہو گیا کہ یہ وہی نبی منتظر ہیں جن کی خبر یہود نے دی تھی، اس لیے آپ کے بارے میں انہوں نے جو کچھ سنا تھا اس کی وجہ سے آپ کو پہچان گئے، آپ کے معاملے کی شہرت دس سال سے کچھ اوپر کے عرصے میں خوب ہو چکی تھی تو اہل مدینہ آپ پرایمان لے آئے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے اور صحابہ کے ہجرت پر اور آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے پر انہوں نے معاہدہ کیا۔

مدینہ کی طرف ہجرت اور جہاد کی اجازت
چناں چہ آپ علیہ السلام اور صحابہ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ، مدینہ میں مہاجرین اور انصار دونوں ہی تھے، لیکن ان میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے کسی دنیاوی رغبت یا خوف کی وجہ سے ایمان قبول کیا ہو ، مگر انصار کے کچھ لوگ کہ انہوں نے ظاہر اً اسلام قبول کیا تھا، پھر ان میں سے بعض کا اسلام بعد میں سچا ہو گیا۔ پھر آپ کو جہاد کی اجازت دے دی گئی، پھر جہاد کا حکم دے دیا گیا اور آپ الله تعالیٰ کے احکامات پر سچائی، عدل اور وفا کے ساتھ مکمل طور سے جمے رہے، آپ کے بارے میں ایک بھی جھوٹ محفوظ نہیں کہ کبھی آپ نے جھوٹ بولا ہو اور نہ ہی کسی پر ظلم ، نہ ہی آپ علیہ السلام نے کسی کے ساتھ غداری کی، بلکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ سچے، سب سے زیادہ انصاف پر ور اور ان میں سب سے زیادہ عہد کی پاس داری کرنے والے تھے ۔ باوجودیکہ ان پر مختلف حالتیں آتی رہتی تھیں، کبھی جنگ، کبھی صلح، کبھی امن او رکبھی خوف، کبھی مال داری تو کبھی فقر وفاقہ ، کبھی قلت کبھی کثرت، کبھی کبھار وہ دشمن پر غالب آجاتے او رکبھی دشمن ان پر غالب آجاتا، لیکن آپ ان تمام حالات کے باوجود مکمل اور اتم طریقے سے دین پر جمے رہے۔

خود نہ تھے جو راہ پر…
یہاں تک کہ اسلام کی دعوت عرب کی اس پوری سر زمین پر پھیل گئی جو بتوں کی عبادت اور کاہنوں کی غلط خبروں سے بھری ہوئی تھی، وہ مخلوق کی اطاعت کرتے اور خالق کی نافرمانی کرتے تھے، خون ناحق کو بہاتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، وہ آخرت کو جانتے تھے نہ ہی یوم معاد کو، لیکن وہ اس دعوت کے پھیلنے کے بعد سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ دین دار، انصاف پرور اور سب سے زیادہ فضیلت والے ہو گئے، یہاں تک کہ نصاری نے جب ان کو دیکھا جب وہ شام آئے تھے تو انہوں نے کہا : ” یہ صحابہ ان لوگوں سے افضل ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صحبت اختیار کی تھی۔“
        خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
        کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا؟!

میراث میں کوئی بکری چھوڑی نہ اونٹ
یہ ان کے او ران کے علاوہ دوسروں کے زمین پر علمی اور عملی آثار ہیں ، ان دونوں امور کے درمیان فرق کو عقلا ہی خوب سمجھ سکتے ہیں۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم باوجود یکہ غالب وحاکم تھے، مخلوق ان کی مطیع تھی، وہ اپنے نفس او رمال پر ان کو ترجیح دیتے تھے، آپ نے اپنے پیچھے ایک درہم چھوڑا نہ دینار، ایک بکری چھوڑی، نہ ہی کوئی اونٹ ،سوائے ایک خچر، کچھ اسلحہ اور اس زرہ کے جو ایک یہودی کے پاس تیس اوسق جَو(30 اوسق یعنی360 سیر) جس کو آپ نے اپنے گھر والوں کی ضروریات کے لیے لیا تھا … کے بدلے بطور رہن رکھی ہوئی تھی اور آپ کے پاس کچھ جائیداد تھی، جس سے اپنے گھرکا خرچہ چلاتے تھے اور باقی جو بچ جاتا اس کو مسلمانوں کے مصالح پر خرچ فرماتے۔ آپ نے پہلے ہی فیصلہ فرما دیا تھا کہ آپ کے متروکہ مال میں میراث جاری ہو گی ، نہ ہی ان کے ورثا اس میں سے کچھ لیں گے ۔ اور ہر وقت آپ کے ہاتھوں سے عجیب عجیب قسم کی نشانیاں اور علامتیں ظاہر ہوتی تھیں، جن کا یہاں ذکر کلام کو طویل کر دے گا۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو ان امور کی خبر دی جو گزر چکیں اور جو آئندہ پیش آئیں گی اور آپ ان کو اچھی باتوں کا حکم کرتے، بری باتوں سے روکتے تھے اور ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال قرار دیتے اور بری چیزوں کو حرام فرماتے۔

کامل او رمکمل شریعت
شریعت میں ایک چیز کے بعد دوسری چیز آہستہ آہستہ نازل فرماتے، یہاں تک کہ الله تعالیٰ نے جس دین کے لیے ان کو مبعوث فرمایا تھا اس کو مکمل فرما دیا اور ان کی شریعت ایک مکمل شریعت کے طور پر سامنے آئی ۔ ایسی کوئی چیز باقی نہ رہی جس کے بارے میں عقلا کا اتفاق ہو کہ یہ بات اچھی ہے اور اس کا ذکر شریعت میں نہ ہو ، نہ ایسی کوئی بری بات جس کے بارے میں عقلا کا اتفاق ہو کہ یہ چیز بری ہے اور اس سے شریعت میں منع نہ کیا گیا ہو ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیا کہ بعد میں کہا جاتا کہ کاش ! اس کے کرنے کا حکم نہ دیا جاتا او رنہ ہی کسی ایسی چیز سے منع فرمایا کہ بعد میں کہا جاتاکہ کاش ! اس سے منع نہ کیا جاتا او رآپ نے پاک چیزوں کو حلال فرمایا اورحلال اشیا میں سے کسی چیز کو بھی حرام قرار نہیں دیا، جس طرح کہ سابقہ شریعتوں میں حرام قرار دیا گیا تھا ۔ اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے بری چیزوں کوحرام قرار دیا اور ان میں سے کسی بھی چیز کو حلال قرار نہیں دیا، جس طرح کہ سابقہ بعض امم نے حرام اشیا کو حلال قرار دے رکھا تھا۔

سابقہ تمام امتوں کی محاسن اور خوبیوں کے جامع
اور دوسری اُمّتوں میں جتنی بھی اچھائیاں اور محاسن تھے ان سب کو آپ نے جمع فرمایا، چنا ں چہ تورات، انجیل اور زبور میں کوئی بھی خبر اور بات الله تعالیٰ، ملائکہ اور قیامت کے دن کے بارے میں ذکر نہیں کی گئی، مگر یہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو ان کتابوں سے زیادہ کامل طو رپر ذکر فرمایا اور ان اشیاء کی خبر دی جوان کتابوں میں نہیں ہیں، چناں چہ ان کتابوں میں ایجاب عدل، انصاف پروری، فضائل کی طرف توجہ اور اچھی باتوں کی ترغیب نہیں، مگر یہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم بھی اسے لے کر آئے اور اس سے بہتر لے کر آئے۔

امت محمد کا دیگر امّتوں سے موازنہ
اگر کوئی عقل مند آدمی ان عبادات میں جن کو آپ صلی الله علیہ وسلم نے مشروع قرار دیا اور وہ عبادتیں جو سابقہ امّتوں میں تھیں ان میں غور وفکر کرے تو اس پر آپ کی مشروع کر دہ عبادتوں کی فضیلت اور ان کا رحجان واضح ہو جائے گا، اسی طرح کا معاملہ حدود، احکام اور دیگر تمام شریعتوں میں ہے، ان کی امت ہر فضیلت میں دوسری امتوں سے اکمل ہے، چناں چہ جب ان کی امت کے علم کا دوسری امتوں کے علم کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ان کی امت کی فضیلت ظاہر ہو جائے گی۔اگر ان کی امت کا دین ، عبادات اور الله کی اطاعت کا دوسری امتوں کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ آپ کے اُمتی سب سے زیادہ دین دارہیں ۔جب ان کی بہادری ، جہاد فی سبیل الله اور الله کے لیے مشکلات پر صبر کرنے کا موازنہ دوسری امتوں کے ساتھ کیا جائے تو یہ بات ظاہر ہو جائے گی کہ یہی زیادہ جہاد کرنے والے اور دل کے اعتبار سے ان سے زیادہ مضبوط ہیں ۔جب ان کی سخاوت ، خرچ اور ایثار کا سابقہ امم سے مقابلہ کیا جائے تو ظاہر ہو گا کہ یہی زیادہ سخی اور جواد ہیں اور یہ تمام کی تمام فضیلتیں امت کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی وجہ سے حاصل ہوئیں، انہوں نے ان تمام چیزوں کو آپ ہی سے سیکھا، تمام صفات عالیہ ومحاسن حسنہ کا منبع اور مرکز حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم ہی ہیں، جنہوں نے لوگوں کو ان امور کے بجالانے کا حکم دیا، جب کہ آپ کی امت آپ سے قبل کسی کتاب کی متبع نہ تھی، کہ یہ کہا جائے کہ آپ دوسرے کسی نبی کی کتاب کو مکمل کرنے تشریف لائے ہیں، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تورات کی شریعت کو مکمل کرنے کے لیے تشریف لائے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متبعین کے فضائل وعلوم بعض تورات سے اخذ کردہ ہیں تو بعض زبور سے، بعض دیگر صیحفوں سے اخذ کردہ ہیں تو بعض حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اور بعض ان کے حواریین سے ، اس کے ساتھ عیسائیوں نے فلاسفہ اور دوسروں کے کلام سے بھی مدد لی ( جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین کو محرفین نے تبدیل کر دیا) تو انہوں نے دین عیسوی میں کفار کے امور میں سے کئی امور داخل کر دیے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین کے صریح مناقض ہیں۔

اہل کتاب اور صحابہ کے ایمان میں بنیادی فرق
جہاں تک تعلق ہے امّت محمدیہ علی صاحبہا الصلاة والسلام کا تو وہ آپ سے پہلے بھی کسی کتاب سماوی کو پڑھنے والی نہیں تھی، بلکہ ان میں کے اکثر تو حضرت موسی ٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت داؤد علیہم السلام، نیز تورات، انجیل اور زبور پر بھی ایمان نہیں لائے تھے ( اکثر ان کو جانتے ہی نہ تھے) مگر یہ کہ آپ کی وساطت سے وہ ان انبیا اور کتابوں پر ایمان لائے، چناں چہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہی تھے جنہوں نے اپنی امت کو حکم دیا کہ وہ تمام انبیا پر ایمان لائیں اور وہ تمام کتابیں جو الله تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ، ان کی حقانیت کا اقرار کریں، نیز آپ نے اپنی امت کو اس بات کی بھی تاکید فرمائی کہ وہ رسولوں میں سے کسی کے درمیان بھی فرق روانہ رکھیں، تمام انبیاء اور کتابوں پر مسلمانوں کا ایمان ہے۔ چنا ں چہ الله تعالیٰ نے اپنی کتاب جس کو نبی صلی الله علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ، اس میں فرمایا: ﴿قُولُواْ آمَنَّا بِاللّہِ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِیَ مُوسَی وَعِیْسَی وَمَا أُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ، فَإِنْ آمَنُواْ بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِہِ فَقَدِ اہْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا ہُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّہُ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم﴾․(سورہ بقرہ، آیت:137-136)
ترجمہ:”تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے الله پر اور جو اترا ہم پر اور جواترا ابراہیم او راسماعیل او راسحق اور یعقوب علیہم السلام اور یعقوب علیہ السلام کی اولاد پر او رجو ملا حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کو اور جو ملا دوسرے پیغمبروں کو، ان کے ربّ کی طرف سے، ہم فرق نہیں کرتے ان میں سے کسی ایک میں بھی اور ہم اس پروردگار کے فرماں بردار ہیں۔ سواگر وہ بھی ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے، ہدایت پائی انہوں نے بھی اور اگر وہ پھر جائیں تو پھر وہی ہیں ضد پر، سو اب کافی ہے تیری طرف سے ان کو الله اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے ۔

اور فرمایا:﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مِن رَّبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّہِ وَمَلآئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِہِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْْکَ الْمَصِیْرُ، لاَ یُکَلِّفُ اللّہُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِیْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَیْْنَا إِصْراً کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِہِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ﴾․ (سورہ بقرہ، آیت:286-285)
ترجمہ:” ایمان لایا رسول نے جو کچھ اترا ان پر ان کے رب کی طرف سے او رمسلمانوں نے بھی، سب نے مانا الله کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو، ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے او رکہہ اٹھے کہ ہم نے سنا اور قبول کیا، تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب ! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

الله تکلیف نہیں دیتا کسی کو، مگر جس قدر اس کی گنجائش ہے، اسی کو ملتا ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر پڑتا ہے جو اس نے کیا، اے ہمارے رب ! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں، اے ہمارے رب ! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ ،جیسا رکھا تھا ہم سے اگلوں پر، اے ہمارے رب! او رنہ اٹھو اہم سے وہ بوجھ کہ جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے اور ہم سے در گذر فرما اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر، توہی ہمارا رب ہے، مدد کر ہماری کافروں پر۔“

Flag Counter