دریافت فرمایا کہ یا رسول اللہ! ”مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟“کن کن چیزوں سے کسی کوروکنا جائز نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پانی، نمک اور آگ لینے سے کسی کو روکنا درست نہیں ہے، حضرت عائشہ نے عرض کیا: حضور! پانی کی ضرورت واہمیت اور اسے روک لینے سے ہونے والے نقصان کا علم تو ہے ، لیکن نمک وآگ میں تو ویسی بات نہیں پائی جاتی ہے، پھر اس کا روک لینا کیوں جائز نہیں ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا:”يَا حُمَيْرَاءُ مَنْ أَعْطَى نَارًا،فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ،وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ،حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ،فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ،حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا“ اے حمیراء! جو اللہ کے واسطے کسی کو آگ دیتا ہے تو گو یا اس نے اس آگ سے پکی ہوئی تمام چیزوں کا صدقہ کیا اور جس نے اللہ کی رضا کے واسطے کسی کو نمک دیا تو اس نے گویا ان تمام کھانوں کا صدقہ کیا جس میں وہ نمک ڈالنے سے لذیذ ہوا ہے اور جس نے کسی مسلمان کو ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی دستیاب ہے تو اس نے ایک غلام کوآزاد کیا اور جس نے ایسی جگہ کسی مسلمان کو پانی پلایا جہاں پانی نہیں ملتا تو گویا اس نے ایک انسان کو زندہ کرنے کا ثواب حاصل کرلیا ۔(ابن ماجہ:2474)
حدیث قدسی ہے: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے:”يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ، فَلَمْ تَسْقِنِي“اے ابن آدم! میں نے تم سے پانی مانگا تھا، لیکن تم نے مجھے پانی نہیں پلایا!! بندہ عرض کرے گا:”يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ؟ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ“ خدایا! آپ تو سب کے پالنہار ہیں، سب کو آپ پانی