دیکھو اور مووی بنواؤ اور جہاں فوٹو کشی ہورہی ہو،گانے بجانے ہورہے ہوں یا مرد و عورت کا اختلاط ہو،پردہ کا اہتمام نہ ہو تو خاندان کی ان ناجائز رسومات میں جاکر شرکت کرو۔
اللہ کی تمام نافرمانیوں کو چھوڑنا سب فرار میں داخل ہے فَفِرُّوْآ اِلَی اللہِ5 ؎کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ صرف حسینوں سے بھاگوبلکہ اللہ کی ہر نافرمانی سے بھاگو، سودی نظام، سودی کاروبار، سودی ملازمتیں ان سے بھاگنا اور حلال تلاش کرنا اور رات دن اللہ سے رونا اور جب حلال مل جائے تو ان سودی کاموں کو فوراً طلاق مغلظہ دے دینا یہ سب فرار میں داخل ہے۔ خاندان کی اس شادی بیاہ یا دیگر رسومات میں شرکت نہ کرنا جہاں فوٹو کھنچ رہے ہوں اور مووی بن رہی ہو، اللہ کے فرامین عالیہ کو پاش پاش کیا جارہا ہو اور عورتیں اور مرد مخلوط ہوکر دعوتِ ولیمہ کھارہے ہو ، یہ ولیمہ نہیں ہے مُولَمَہْ ہےیعنی قابلِ ملامت کام ہے۔یہاں ایک لطیفہ یاد آیا، آج کل ولیمہ میں کھانا کھلانے پر پابندی ہے صرف بوتلیں پلاسکتے ہیں، اس پر ایک شاعر نے کہا کہ ؎
ولیمہ پی کر آیا ہوں اب کھانا گھر میں کھاؤں گا
حکومت کے قانون کی وجہ سے ولیمہ کی سنتِ مؤکدہ چھوڑ کر مرنڈا اور بوتلوں پر اکتفا کرنے والوں اور ولیمہ پینے والوں سے گزارش ہے کہ جس طرح ایک سلطنت کے حکمران کی بات مان لی تو اللہ تعالیٰ تو سب سے بڑا سردار،سلاطین کا سلطان، ملک الملوک ہے، اس کے حکم پر بھی چلو پھر دیکھو کیا مزہ ملتا ہے۔دنیاوی بادشاہ تو اپنے حکم کی تعمیل پر انعام نہیں دیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم ہمارا حکم مانو گے، ہماری نافرمانی سے بچو گے تو ہم اپنی دوستی کا تاج تمہاری غلامی کے سر پر رکھ دیں گے اور تمہارا شمار اولیاء اللہ میں ہوجائے گا۔
تو تمام نافرمانیوں سےبھاگنا فَفِرُّوْآ اِلَی اللہِ میں داخل ہے۔ ہر وہ فعل، ہر وہ خیال جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوں سب فرار میں داخل ہے۔ ورنہ عام لوگ یہی سمجھیں گے کہ بس حسینوں سے بچ جاؤ پھر مووی دیکھو، ٹیلی ویژن دیکھو،حرام کھاتے رہو اور سب گناہ کرتے رہو۔لہٰذا آج یہ قاعدہ کلیہ لکھ لو کہ اللہ کی جتنی نافرمانیاں ہیں، ہر گناہ کو چھوڑنا اللہ کی طرف بھاگنا ہے اور اللہ کی طرف قرار پکڑنا ہے، یہ سب فَفِرُّوْآ اِلَی اللہِ میں داخل ہے۔
_____________________________________________
5؎ الذّٰریٰت:50