یعنی لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ میں اور اللہ میں کوئی پردہ نہیں ہے ؎
نگاہِ عشق تو بے پردہ دیکھتی ہے اسے
خرد کے سامنے اب تک حجابِِ عالم ہے
عقل یوں تو مہجور ہے لیکن جب اللہ کی محبت عطا ہوجائے تو وہ نگاہ ِعاشق سے انہیں بے پردہ دیکھتی ہے۔ مولانا بدرِ عالم صاحب رحمۃ اللہ علیہ وہ شخص ہیں جن کی قبر مدینہ پاک جنت البقیع میں ہے، حکومت کی طرف سے ان کی قبر ہر چھ مہینہ بعد تین دفعہ کھودی گئی تاکہ دوسرا مردہ دفن کیا جائے، کیوں کہ وہاں رواج ہے کہ چھ مہینہ بعد نیا جنازہ دفن کردیتے ہیں، تو ہر چھ مہینہ بعد دیکھا کہ بڑے میاں آرام سے لیٹے ہیں اور کفن بھی بالکل صحیح ہے اور جسم بھی بالکل صحیح ہے۔ یہ بات مدینہ پاک میں ثقہ روایات سے اہل مدینہ نے میرے شیخ ثانی حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب کے سامنے بیان کی۔ تو جب مسلسل تین مرتبہ ان کی قبر کھود کر دیکھا گیا تو سعودی حکومت نے ایک قانون جاری کیا کہ اب ان کی قبر کو ایسے ہی رہنے دو۔ ترجمان السنۃ کے نام سے مولانا بدرِ عالم صاحب کی ایک کتاب ہے، اپنی اس کتاب میں وہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ساتوں آسمان پار کرجاتی ہے، اللہ میں اور لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ میں کوئی پردہ نہیں ہے، ہماری لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ زمین سے جاکر براہِ راست اللہ سے ملتی ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر ہم خود وہاں تک نہیں جاسکتے تو اپنیلَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ تو وہاں تک پہنچادو۔ کسی ظالم نے کیا خوب کہا ہے ؎
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے جو اس محفل میں ہو
تو بہت سے لوگ اس ذکر کو کرتے ہیں مگر آج حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بتایا ہوا جو مراقبہ اختر بیان کررہا ہے اس طرح مراقبہ کرکے ذکر کرو پھر دیکھو کہ روح کا جہاز اللہ تک اُڑجائے گا ان شاء اللہ، اتنا قرب عطا ہوگا کہ حیرت میں آجاؤگے۔ اسی لیے بزرگوں کے ساتھ اور بزرگوں کے غلاموں اور خادموں کے ساتھ اُٹھا بیٹھا جاتا ہے۔ میں اپنے کو اﷲ والوں کا خادم اور غلام اس لیے کہہ دیتا ہوں تاکہ میری طرف سے اللہ والا ہونے کا دعویٰ ثابت نہ ہو، مگر میری غلامی اور میری خادمیت پر تاریخ اور سارا زمانہ شہادت دے گا، اس کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے۔