دردِ محبت شاہ ابوالمعالی میں تھا اتنا ہی دردِ محبت بھیکا شاہ میں آگیا تھا اور بھیکا ان کا لقب اس لیے پڑا کہ شیخ ان سے چھ مہینے کے لیے ناراض ہوگئے تھے اور ان کو خانقاہ سے نکال دیا تھا، اب وہ خانقاہ کے چکر لگاتے تھے، اتنے میں بارشوں کا موسم آگیا۔ شیخ ابوالمعالی شاہ کی بیوی نے کہا کہ چھت ٹپک رہی ہے۔تو شاہ ابوالمعالی نے فرمایا ارے! کسی سے بنوالو، عرض کیا کہ کس سے بنوائیں؟ جتنے خانقاہ میں پاجامہ پوش، سفید پوش ہیں یہ تو جانتے نہیں اور جو جانتا تھا اس کو آپ نے نکال دیا، وہ جنگل میں رو رہا ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ میں نے نکالا ہے تو نے تو نہیں نکالا، تو بلالے اسے۔ اب انہوں نے بچہ بھیج کر اُن کو بلایا۔ ان کا مارے خوشی کے کیا پوچھنا تھا، چھ مہینے سے شیخ کو دیکھنے کے لیے ترسے ہوئے تھے، آتے ہی فوراً کام شروع کردیا اور سب کچھ بنادیا، ساری چھت ٹھیک کردی۔ اس زمانے میں کھپریل کی چھت ہوتی تھی، لنٹر کی چھت نہیں ہوتی تھی۔ اب جب شاہ صاحب کھانا کھانے آئے تو شاہ ابوالمعالی رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا کہ چھت پر کوئی کام کررہا ہے، نظر اُٹھاکر دیکھا تو وہی تھے جن کو چھ مہینے سے نکالا ہوا تھا، آنکھ سے آنکھ ملی اور وہ رونے لگے، مرید بھی روئے، شیخ بھی روئے اور شاہ صاحب نے کھانا کھاتے ہوئے ایک لقمہ بنایا اور کہا کہ لے بھیک لے! وہ فوراً چھت پر سے کود پڑے، سیڑھی بھی نہیں منگائی اور جلدی سے منہ میں لقمہ اُتارلیا، چوں کہ اب ان کا مجاہدہ پورا ہوچکا تھا، خدائے تعالیٰ کی رحمت کا فیصلہ ہوچکا تھا لہٰذا اسی وقت شاہ ابوالمعالی کے سینے کی ساری دولت، ایمان و یقین، دردِ محبت اور نسبت مع اللہ کی جو کچھ دولت تھی سب بھیکاشاہ کے اندر منتقل ہوگئی اور ان کے دل کی دنیا بدل گئی ؎
تم نے جہاں بدل دیا آکر میری نگاہ میں
محو کھڑا ہوا ہوں میں حسن کی جلوہ گاہ میں
جب دل میں خدا آتا ہے تو انسان کو پتا چل جاتا ہے، جیسے جس دریا میں پانی آئے گا تو کیا اس دریا کو پتا نہیں چلے گا؟ جس دل میں خدا آئے گا کیا اس دل کو پتا نہیں چلے گا؟ خوب پتا چلتا ہے، اور ایسا چلتا ہے کہ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎
یہ کون آیا کہ دھیمی پڑگئی لَو شمعِ محفل کی
پتنگوں کے عوض اُڑنے لگیں چنگاریاں دل کی