بیمار ذہنیت کی چغلی کھا رہا ہے یقینا ایسے اِنسان کو کھرا آدمی پاگل ہی کہے گا اور ا گرمروت سے کام لیا تو نفسیاتی مریض۔
اِس فطری اور بے اِختیار عمل کو کوئی شخص اپنے چہرے پر باقی رکھنا چاہے تویہ اُس کا پیدائشی اور فطری حق ہے جس طرح نا خن اور سر کے بال اپنے اِختیار سے ہر کوئی چھوٹے بڑے کر سکتا ہے با لکل اِسی طرح دا ڑھی بھی ہر مرد کے بدن کا بِلا شرکت ِ غیر ایک جز ہے ، اگردا ڑھی مو نڈنے والا اپنے اِختیار سے چھیل کر اپناچہرہ بگاڑ سکتا ہے تو داڑھی کو باقی رکھنے والا اپنے ہی اِختیار سے اپنے ہی چہرے کو سجانے کا حق کیوں نہیں رکھ سکتا ؟ اپنے ہی جسم پر اِنسان کی اپنی خواہش کی ایسی پامالی پر اِنسانی حقوق کے علمبر دار کیوں خاموش ہیں ؟ ؟ ؟
اِس دور میں جس بے دردی کے ساتھ تا جکستان اَفغانستان شام کشمیر فلسطین عراق وسطی اَفریقہ میانمار اور ہندوستان میں گزشتہ ستر اَسی برس سے حقوق کی آزادی کا گلا گھونٹا جا رہا ہے دُنیا میں اِس کی کم ہی مثالیں مل سکیں گی۔
تنگ نظری اور عدمِ بر داشت کا مزاج کفارکی سرشت کا حصہ ہے اِن کفار کی شاگردی میں جاکر اِن کو اپنا اُستاد بنانے والی مسلم سوسائٹیوں میں اُن کی نفسیاتی بیماریاں منتقل ہو کر جڑ پکڑ گئی ہیں اپنے اُستا دوں کی مر عوبیت نے اِن کو بھی دقیانوس، بے برداشت اورتنگ نظر بناکر رکھ دیاہے جس کے نتیجہ میں اِن کا اپنا شعور مر گیا اور فطرت سے بغاوت اِن کوبھلی دکھائی دینے لگی۔
اِسلام نے د اڑھی کے معاملہ میں کفار پر جبر نہیں کیا رکھیں یا نہ رکھیں وہ آزاد ہیں، اِسلامی تعلیمات کے نتیجہ میں بلندنظری اور فراخ دلی پیدا ہوتی ہے وہ '' جبر'' کو''بے جبری'' کی زنجیر سے جکڑ کر اپنی موت مار دیتا ہے ،دُنیا کی قیادت اور جہانبانی کے گُر حضرت محمد رسول اللہ ۖ کی قیادت کے طفیل آخری اُمت کے خزانے کی پونجی ہے جو اِسی اُمت کے نا دانوں کی نا قدری کی وجہ سے اَب بے آبرو ہے اِس اُمت کے کچھ دیوانے اِس لعلِ بے سروسامان کی آبرو پر اپنا سب کچھ قربان کر کے بھلے وقت کے اِنتظار میں دونوں جہانوں کی سعادتیں سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ فَجَزَاھُمُ اللّٰہُ خَیْرًا ۔