لہ ان ینظر الیہ منھا]٣١٢٧[(٢٧) وینظر الرجل من مملوکة غیرہ الی مایجوز لہ ان ینظر الیہ من ذوات محارمہ]٣١٢٨[ (٢٨) ولا بأس بان یمسَّ ذلک اذا اراد الشراء وان
والقلب یھوی ویتمنی ویصدق ذلک الفرج ویکذبہ (الف) (مسلم شریف، باب قدر علی ابن آدم حظہ من الزنا وغیرہ ، ص ٣٣٦، نمبر ٢٦٥٧ ٦٧٥٤ بخاری شریف، باب زنا الجوارح دون الفرج ، ص ٩٢٢، نمبر ٦٢٤٣) اس حدیث میں ہے کہ شہوت کے ساتھ پکڑنا بھی زنا کے درجے میں ہے اس لئے شہوت ہوتو ذی رحم محرم کے ان اعضاء کو نہ چھوئے۔
لغت مس : چھونا۔
]٣١٢٧[(٢٧)آدمی دیکھ سکتا ہے دوسرے کی باندی کا اتنا بدن جتنا دیکھنا جائز ہے اپنی ذی رحم محرم عورتوں کا۔
تشریح ذی رحم محرم عورتوں کا ہنسلی کی ہڈی سے لیکر گھٹنے تک دیکھنا جائز نہیں باقی سر ،بازو اور پنڈلی دیکھ سکتا ہے اسی طرح دوسرے کی باندی کا ہنسلی کی ہڈی سے لیکر گھٹنے تک دیکھنا جائز نہیں ہے، باقی سر، بازو اور پنڈلی دیکھ سکتا ہے۔
وجہ مملوکہ باہر کام کرنے نکلے گی تو ہر وقت سر پر چادر رکھنا مشکل ہوگا۔اس لئے اس کے لئے گنجائش ہے کہ سر، بازو اور پنڈلی کھلی رکھے (٢) وہ ذی رحم محرم عورت کی طرح ہو گئی۔البتہ جن اعضاء کو دیکھنا جائز ہے ان کو چھونا جائز نہیں۔کیونکہ وہاں شہوت کاملہ ہے (٣) حدیث میں اس کا ثبوت ہے ۔عن عطاء قال قال رسول اللہ ۖ ان الامة قد القت فروة رأسھا (ب) دوسرے اثر میں ہے۔عن ابراہیم قال تصلی ام الولد بغیر خمار وان کانت قد بلغت ستین سنة (ج) (مصنف ابن ابی شیبة ، ٤٩٦ فی الامة تصلی بغیر خمار ، ج ثانی، ص ٤١، نمبر ٦٢٣٤ ٦٢٢٦) اس حدیث اور اثر سے معلوم ہوا کہ باندی کا سر اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے بازو اور پنڈلی ستر نہیں ہے۔
]٣١٢٨[(٢٨)کوئی حرج نہیں ہے کہ ان اعضاء کو چھونے میں اگر خریدنے کا ارادہ رکھتا ہو اگرچہ شہوت کا اندیشہ ہو۔
تشریح کسی باندی کو خریدنے کا ارادہ ہے تو چاہے چھونے سے شہوت ابھرنے کا اندیشہ ہو پھر بھی ان اعضاء کو چھو سکتا ہے جس کے دیکھنے کی اجازت ہے۔ مثلا سر،بازو یا پنڈلی دیکھ سکتا ہے اور خریدنے کا ارادہ ہوتو ان کو چھو بھی سکتا ہے۔تاکہ پتا چل جائے کہ باندی کتنی گدازونرم ہے۔
وجہ باندی مال کے درجے میں ہے۔ اس لئے اس ضرورت کے تحت باندی کو چھو کر دیکھ سکتا ہے (٢) ایک حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ۖ لا بأس ان یقلب الرجل الجاریة اذا اراد ان یشتریھا و ینظر الیھا ماخلا عورتھا (د)(سنن للبیہقی،باب عورة الامة ض ثانی، ص ٣٢١، نمبر ٣٢٢٤) اس حدیث میں ہے کہ باندی کو خریدنے کا ارادہ ہو تو اس کو الٹ پلٹ کر دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور الٹتے پلٹتے وقت چھونا بھی ہوگا۔ جس سے معلوم ہوا کہ چھو سکتا ہے۔
حاشیہ : (الف) حضورۖ نے فرمایا اللہ نے ابن آدم پر زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جو ہونے ہی والا ہے۔ پس دونوں آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے،اور دونوں کانوں کا زنا سننا ہے، اور زبان کا زنا بات کرنا ہے، اور ہاتھ کا زنا چھونا ہے، اور پاؤں کا زنا چلنا ہے،اور دل خواہش کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے اور فرج اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب کرتا ہے(ب) آپۖ نے فرمایا باندی سر کی اوڑھنی ڈال سکتی ہے(ج) حضرت ابراہیم نے فرمایا ام ولد بغیر اوڑھنی کے نماز پڑھ سکتی ہے چاہے ساٹھ سال کی ہو چکی ہو (د) حضورۖ نے فرمایا باندی کو الٹ پلٹ کر دیکھے اس میں حرج نہیں ہے اگر اس کو خریدنا چاہتا ہو،اور ستر کے علاوہ دیکھ سکتا ہے۔