والعضُدین ولا ینظر الی ظھرھا وبطنھا وفخذھا]٣١٢٦[(٢٦) ولا بأس بان یمسَّ ماجاز
ملکت ایمانھن (آیت ٣١،سورة النور ٢٤) اس آیت میں ہے کہ عورتیں زینت یعنی زینت کے مقام ان ذی رحم محرم کے سامنے ظاہر کر سکتی ہیں۔زیور پہننے اور زینت کرنے کے اعضاء یہ ہیں۔ناک،کان،جن میں سر اور چہرہ موجود ہے۔گلے میں ہار پہنتی ہیں جن میں سینہ کے اوپر کی ہڈی یعنی ہنسلی آئی۔پنڈلی میں پازیب اور بازو میں بازو بند اور ہتھیلی میں چوڑی پہنتی ہیں۔اس لئے یہ اعضاء مقام زینت ہیں۔ آیت کی بنیاد پر یہ اعضاء ذی رحم محرم کے سامنے کھول سکتی ہیں اور ان کو دکھلا سکتی ہیں۔پیٹھ،پیٹ، ران،سینہ کا وہ حصہ جس پر پستان ہے یا اس کے ارد گرد کا حصہ اس پر کوئی زیور نہیں پہنتی اس لئے آیت کی بنیاد پر ان اعضاء کو کھولنا یا دکھلانا حرام ہے (٢) یہ اعضاء دیکھنے سے شہوت ابھرتی ہے اس لئے بھی ان کا دیکھنا جائز نہیں ہوگا (٣) ذی رحم محرم عورتیں مردوں کے ساتھ ہر وقت کام کرتی ہیں اس لئے سر، بازو،پنڈلی پر کپڑا لینے کی تاکید کریں تو کام کرنے میں حرج ہوگا۔شریعت نے ان اعضاء کو ڈھکنے کاتاکیدی حکم نہیں لگایا(٣) اثر میں ہے۔ان الحسن والحسین کانا یدخلان علی اختھما ام کلثوم وھی تمشط (الف) (مصنف ابن ابی شیبة،ج رابع، ص ١٢، نمبر ١٧٢٧٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ذی رحم محرم عورت کا سر اور اس پر قیاس کرکے پنڈلی اور بازو دیکھنا جائز ہے۔
لغت ساق : پنڈلی، عضدین : عضد کا تثنیہ ہے بازو، فخذ : ران
]٣١٢٦[(٢٦)کوئی حرج نہیں ہے کہ چھوئے اس عضو کو جس کو دیکھنا جائز ہے۔
تشریح ذی رحم محرم عورتوں کے جن اعضاء کو دیکھنا جائز ہے ضرورت پڑنے پر ان کو چھونا بھی جائز ہے بشرطیکہ شہوت ابھرنے کا خطرہ نہ ہو۔
وجہ سفر وغیرہ میں عورتوں کو بس اور ٹرین سے اتارنے میں اس کے ہاتھ یا اس کے پاؤں پکڑنے کی ضرورت پڑتی ہے اور ان کے چھونے میں شہوت ابھرنے کا خطرہ کم ہے کیونکہ احترام مانع ہے۔اس لئے جن اعضاء کو دیکھا جائز ہے ان کو چھونا بھی جائز ہے (٢) حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ۖ لا بأس ان یقلب الرجل الجاریة اذا اراد ان یشتریھا وینظر الیھا ماخلا عورتھا (ب) (سنن للبیہقی، باب عورة الامة،ج ثانی، ص ٣٢١، نمبر ٣٢٢٤) اس حدیث میں ہے کہ باندی کو خریدتے وقت اس کو ادھر ادھر گھمائے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ چھو بھی سکتا ہے (٢) اثر میں ہے۔ حدثنا معتمر عن ابیہ ان طلقا کان یذوّب امہ (ج) مصنف ابن ابی شیبة، ١٧٥ ماقالوا فی الرجل ینظر الی شعر امہ ویفلیھا ،ج رابع، ص ١٢، نمبر ١٧٢٧٨) اس اثر سے معلوم ہوا ماں کا گیسو بنا سکتا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ ان اعضاء کو چھو بھی سکتا ہے۔
البتہ اگر شہوت کا خطرہ ہوتو ذی رحم محرم عورتوں کو بھی نہ چھوئے۔
وجہ حدیث میں ہے۔ عن ابی ھریرة عن النبی ۖقال کتب علی ابن آدم نصیبہ من الزنی مدرک ذلک لا محالة فالعینان زنا ھما النظر والاذنان زناھما الاستماع واللسان زناہ الکلام والید زناھا البطش والرجل زناھا الخطأ
حاشیہ : (الف)حضرت حسن اور حضرت حسیں اپنی بہن کلثوم کے پاس آتے اور وہ کنگی کرتی رہتی(ب)آپۖ نے فرمایا آدمی باندی کو الٹ پلٹ کر دیکھے اس میں حرج نہیں ہے۔اگر اس کو خریدنا چاہے اور ستر کے علاوہ اس کے جسم کو دیکھ سکتا ہے (ج) حضرت طلق اپنی ماں کا گیسو بنایا کرتے تھے۔