خاف ان یشتھی]٣١٢٩[(٢٩) والخصیُّ فی النظر الی الجنبیَّة کالفحل]٣١٣٠[(٣٠) ولا یجوز للمملوک ان ینظر من سیّدتہ الا الی مایجوز للاجنبی النظر الیہ منھا۔
نوٹ دوسری روایت میں ہے کہ شہوت کا اندیشہ ہوتو باندی کو چھونا جائز نہیں ۔
وجہ پہلے گزر چکا کہ شہوت کے ساتھ چھونا ہاتھ کا زنا ہے والید زناھا البطش (مسلم شریف، نمبر ٢٦٥٧) اس لئے دوسرے کے مال سے زنا کے انداز کا استفادہ جائز نہیں ہوگا۔
]٣١٢٩[(٢٩)خصی آدمی اجنبی کی طرف دیکھنے میں مرد کی طرح ہے۔
تشریح جو آدمی مکمل مرد ہے خصی نہیں ہے جس طرح اجنبیہ کے ستر کو دیکھنا اس کے لئے حرام ہے اسی طرح جومرد خصی کیا ہواہو اس کے لئے بھی اجنبیہ کے ستر کو دیکھنا حرام ہے۔
وجہ وراثت، نماز اور دیگر احکام میں خصی آدمی مکمل مرد کی طرح ہے اس لئے اجنبیہ کو دیکھنے میں بھی مرد کی طرح ہوگا (٢) پیدائشی طور پر وہ مرد ہی تھا بعد میں اس کا مثلہ کردیا اس لئے ابھی بھی مرد کا ہی حکم ہوگا۔اثر میں ہے۔ عن ابن عباس قال خصاء البھائم مثلة ثم تلا ولامرنھم فلیغیرن خلق اللہ (الف) (آیت ١١٩، سورة النساء ٤،مصنف ابن ابی شیبة،٨ ماقالوا فی خصاء الخیل والدواب،ج سادس،ص ٤٢٦،نمبر ٣٢٥٧٦) اس اثر میں ہے کہ خصی ایک قسم کا مثلہ ہے۔اور مثلہ کا حکم اصل مرد کا حکم ہوتا ہے۔
لغت الفحل : مکمل مرد۔
]٣١٣٠[(٣٠)غلام کا اپنی سیدہ کا اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے جتنا اس کے بدن کو اجنبی مرد دیکھ سکتا ہے۔
تشریح اجنبی آدمی کسی عورت کا صرف چہرہ اور ہتھیلی دیکھ سکتا ہے۔اسی طرح غلام اپنی سیدہ کا صرف چہرہ اور ہتھیلی دیکھ سکتا ہے۔باقی بدن اس کے لئے ستر ہے۔
وجہ غلام بہر حال اجنبی مرد ہے۔ فروخت ہونے کے بعد وہ بالکل اجنبی بن جائے گا۔ اس لئے غلام ہونے کے زمانے میں بھی اس کا حال اجنبی سا ہوگا(٢) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔ عن الضحاک انہ کرہ ان ینظر المملوک الی شعر مولاتہ (ب) (مصنف ابن ابی شیبة، ١٧٣،ماقالوا فی الرجل اللمملوک لہ ان یری شعر مولاتہ ،ج رابع ، ص ١١، نمبر ١٧٢٧٠) دوسری روایت میں ہے ۔عن ابراہیم قال تستر امرأة عن غلامھا (ج) (مصنف ابن ابی شیبة،ماقالوا فی الرجل المملوک لہ ان یری شعر مولاتہ ،ج رابع، ص ١١، نمبر ١٧٢٦٧) ان دونوں اثروں سے معلوم ہوا کہ غلام اپنی سیدہ کے لئے اجنبی کی طرح ہے۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ غلام اپنی سیدہ کے لئے ذی رحم محرم کی طرح ہے۔یعنی ہنسلی کی ہڈی سے لیکر گھٹنے تک ستر ہے۔باقی سر، بازو اور پنڈلی اس کے لئے ستر نہیں ہے وہ دیکھ سکتا ہے۔
حاشیہ : (الف)حضرت ابن عباس نے فرمایا جانوروں کو خصی کرنا مثلہ ہے۔پھر یہ آیت پڑھی،شیطان ضرور ان کو حکم دیںگے کہ اللہ کی تخلیق کو بدلیں(ب) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ غلام اپنی سیدہ کا بال دیکھے یہ مکروہ ہے(ج)ابراہیم نے فرمایا کہ عورت اس کے غلام سے پردہ کرے۔