]٣١٢٥[(٢٥) وینظر الرجل من ذوات محارمہ الی الوجہ والرأس والصدر والساقین
،ص ١٠٣، نمبر ٢٧٩٤ ابن ماجہ شریف، باب التستر عند الجماع،ص ٢٧٥، نمبر ١٩٢٠) اس حدیث میں ہے کہ اپنی ستر کو چھپائے رکھو مگر اپنی بیوی اور باندی سے ۔جس کا مطلب یہ نکلا کہ بیوی اور باندی کے سامنے ایک دوسرے کا ستر ظاہر ہوجائے تو کوئی بات نہیں ہے (٢) ایک حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔ ان سعد بن مسعود الکندی قال اتی عثمان بن مظعون رسول اللہ ۖ قال یا رسول اللہ ! انی لاستحی ان تری اھلی عورتی قال وقد جعلک اللہ لھم لباسا وجعلہم لک لباسا قال اکرہ ذلک قال فانھم یرونہ منی واراہ منھم قال انت یا رسول اللہ ! قال انا قال انت! فمن بعد ک اذاً ؟قال فلما ادبر عثمان قال رسول اللہ ۖ ان ابن مظعون لحیی ستیر (الف) ٠مصنف عبد الرزاق، القول عند الجماع وکیف یصنع وفضل الجماع ،ج سادس، ص ١٩٥، نمبر ١٠٤٧١۔ اس حدیث میں ہے کہ حضورۖ نے فرمایا بیویاں میرا دیکھتی ہیں اور میں ان کا دیکھتا ہوں ۔جس سے معلوم ہوا کہ بیوی کی شرمگاہ دیکھنا جائز ہے۔
البتہ نہ دیکھے تو بہتر ہے۔
وجہ حدیث میں ہے۔عن عتبة ابن عبد السلمی قال قال رسول اللہ ۖ اذا اتی احدکم اھلہ فلیستتر ولا یتجرد یجرد العیرین (ب) دوسری روایت میں ہے۔عائشة قالت ما نظرت او مارأیت فرج رسول اللہ قط (ج) (ابن ماجہ شریف، باب التستر عند الجماع ،ص ٢٧٥، نمبر ١٩٢١ ١٩٢٢ ترمذی شریف، باب ماجاء فی الاستتار عند الجماع ، ص ١٠٣ ، نمبر ٢٨٠٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جماع کے وقت بالکل ننگا نہ ہو جس سے معلوم ہوا کہ اس کی شرمگاہ نہ دیکھے تو بہتر ہے۔
]٣١٢٥[(٢٥)آدمی دیکھ سکتا ہے اپنی ذی رحم محرم عورتوں کے چہرہ،سر،سینہ،پنڈلیوں اور بازوؤں کو،اور نہ دیکھے اس کی پیٹھ،پیٹ اور ران کو۔
تشریح ذی رحم محرم عورتیں مثلا ماں،بہن،پھوپی ،نانی ،خالہ وغیرہ کا چہرہ ،سر،ہنسلی کا حصہ،پنڈلی اور بازو وغیرہ کو دیکھ سکتا ہے۔لیکن اس کی پیٹھ،پیٹ،ران،گھٹنا وغیرہ نہیں دیکھ سکتا ۔
وجہ مرد کے لئے ذی رحم محرم عورت کا گردن سے لیکر گھٹنے تک ستر ہے اور یہ مقام شہوت بھی ہیں اس لئے ان مقامات کو نہیں دیکھ سکتا،باقی سر،چہرہ ،پنڈلی اور سینے کے اوپر جو ہنسلی کا حصہ ہوتا ہے وہ دیکھ سکتا ہے(٢) آیت میں اس کا اشارہ ہے۔ولایبدین زینتھن الا لبعولتھن او آبائھن او آباء بعولتھن او ابنائھن او ابناء بعولتھن او اخوانھن او ابنی اخوانھن او بنی اخواتھن او نسائھن او ما
حاشیہ : (پچھلے صفحہ سے آگے) نے فرمایا بیوی اور باندی کے علاوہ اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھو (الف) حضرت عثمان بن مظعون حضورۖ کے پاس آئے فرمانے لگے یا رسول اللہ ! مجھے شرم آتی ہے کہ میری بیوی میری شرم گاہ دیکھے ۔فرمایا اللہ نے آپ کو ان کے لئے لباس بنایا اور ان کو تمہارے لئے لباس بنایا۔حضرت عثمان نے فرمایا مجھے اس سے بھی کراہیت ہوتی ہے۔حضورۖ نے فرمایا میری بیوی میری شرمگاہ دیکھتی ہے اور میں اس کی دیکھتا ہوں۔تعجب سے پوچھا آپۖ کی یا رسول اللہ ! فرمایا میری پھر کس کی؟ حضرت عثمان جانے لگے تو آپۖ نے فرمایا ابن مظعون بہت شرمیلا ہے پردے دار ہے(ب) آپۖ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو ستر چھپائے اور دو گدھے کی طرح بے پردہ نہ ہو (ج) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضورۖ کی شرمگاہ کو کبھی نہیں دیکھا۔