]٣١٢٢[(٢٢) ویجوز للمرأة ان تنظر من الرجل الی ما ینظر الیہ الرجل منہ ]٣١٢٣[ (٢٣)وتنظر المرأة من المرأة الی مایجوز للرجل ان ینظر الیہ من الرجل]٣١٢٤[(٢٤) وینظر الرجل من امتہ التی تحل لہ وزوجتہ الی فرجھا۔
سنن للبیھقی ، باب عورة الرجل،ج ثانی، ص ٣٢٤، نمبر ٣٢٣٥(٢) دوسری حدیث میں ہے ۔سمعت علیا یقول قال رسول اللہ ۖ الرکبة من العورة (الف) (دار قطنی ، باب الامر بتعلیم الصلوة والضرب علیھا وحد العورة التی یجب سترھا ،ج اول، ص ٢٣٧، نمبر ٨٧٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھٹنا تک ستر ہے یعنی گھٹنا ستر میں شامل ہے اس لئے اس کا دیکھنا جائز نہیں۔
لغت سرة : ناف، رکبة : گھٹنا۔
]٣١٢٢[(٢٢)اور عورت کے لئے جائز ہے مرد کا اتنا حصہ دیکھنا جتنا مردمردکا دیکھ سکتا ہے۔
تشریح مرد مرد کا ناف سے لیکر گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتا ہے باقی بدن دیکھ سکتا ہے۔ اسی عورت بھی مرد کا ناف سے لیکر گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی ہے باقی بدن دیکھ سکتی ہے۔
وجہ کیونکہ مرد اور عورت دونوں کے لئے مرد کا ستر ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے باقی بدن ستر نہیں ہے ۔دلیل اوپر کی حدیث ہے۔الرکبة من العورة (دارقطنی،نمبر ٨٧٨)
]٣١٢٣[(٢٣) عورت دوسری عورت کا اتنا بدن جتنا دیکھ سکتا ہے مرد دوسرے مرد کا ۔
تشریح ایک مرد دوسرے مرد کا ناف سے لیکر گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتا ہے باقی بدن دیکھ سکتا ہے۔اسی طرح ایک عورت دوسری عورت کا ناف سے لیکر گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی ہے۔کیونکہ یہ ستر غلیظہ ہے باقی بدن دیکھ سکتی ہے۔
وجہ ایک عورت دوسری عورت کی پستان دیکھ لے تو شہوت نہیں ابھرتی اس لئے کہ اس کے پاس بھی ہے۔ اس لئے ان اعضاء کو دیکھنے میں حرج نہیں۔البتہ ناف سے لیکر گھٹنے تک ستر غلیظہ ہے اس لئے اس کا دیکھنا عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہے۔
]٣١٢٤[(٢٤) وہ باندی جو اس کے لئے حلال ہے اس کی اور اپنی بیوی کی شرمگاہ مرد دیکھ سکتا ہے۔
تشریح اپنی باندی کی شادی کسی دوسرے سے کروا دیا ہو تو اس باندی سے صحبت کرنا جائز نہیں۔اسی طرح رضاعی بہن باندی ہوتو اس سے صحبت کرنا حلال نہیں اس لئے فرمایا کہ ایسی باندی جس سے صحبت کرنا حلال ہو اس کی شرم گاہ دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے گناہ نہیں ہے۔ اسی طرح بیوی کی شرم گاہ دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے گناہ نہیں ہے۔البتہ تقوی کا تقاضا یہ ہے کہ خواہ مخواہ نہ دیکھے۔کیونکہ وہ جگہ شرم کی چیز ہے۔
وجہ حدیث میں دونوں باتوں کا ثبوت ہے۔اخبرنا بھز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ قال قلت یا نبی اللہ ! عوراتنا ما ناتی منھا وما نذر؟ قال احفظ عورتک الا من زوجتک او ما ملکت یمینک (ب) (ترمذی شریف، باب ماجاء فی حفظ العورة
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا گھٹنا ستر میں سے ہے(ب) میں نے کہا یا نبی اللہ ١ ہمارے ستر کے بارے میں کیا کریں اور کیا چھوڑیں؟آپۖ(باقی اگلے صفحہ پر)