Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

350 - 485
یشتھی]٣١٢٠[(٢٠) ویجوز للطبیب ان ینظر الی موضع المرض منھا]٣١٢١[(٢١) وینظر الرجل من الرجل الی جمیع بدنہ الا مابین سُرَّتہ الی رکبتہ۔

جائز ہے چاہے ابھی وہ اجنبیہ ہے۔حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة قال کنت عندالنبی ۖ فأتاہ رجل فأخبرہ انہ تزوج امرأة من الانصار فقال لہ رسول اللہ ۖ أنظرت الیھا؟قال لا! قال فاذھب فانظر الیھا فان فی اعین الانصار شیئا (الف) (مسلم شریف، باب ندب من اراد نکاح امرأة الی ان ینظر الی وجھھا وکفیھا قبل خطبتھا ،ص ٤٥٦، نمبر ١٤٢٤ ابوداؤد شریف، باب فی الرجل ینظر الی المرأة وھو یرید تزویجھا ،ص ٢٩١، نمبر ٢٠٨٢ ترمذی شریف، باب ماجاء فی النظر الی المخطوبة ،ص٢٠٧، نمبر ١٠٨٧) اس حدیث میں ہے کہ مخطوبہ کو دیکھ سکتا ہے کیونکہ اس میں ضرورت ہے۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے قاضی اور گواہ دیکھ سکتا ہے۔کیونکہ ان دونوں کوضرورت ہے چاہے شہوت کا اندیشہ ہو۔
]٣١٢٠[(٢٠)طبیب کے لئے جائز ہے کہ اس کے مرض کی جگہ دیکھے۔
تشریح   مثلا سرین میں زخم ہے اب ڈاکٹر کے لئے اس کا آپریشن کرنا ضروری ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس جگہ کو دیکھے۔
وجہ  مجبوری کی وجہ سے ستر دیکھنا جائز ہو جاتا ہے۔مجبوری کی وجہ سے حلت کی وجہ یہ آیت ہے۔قل لااجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتة او دما مسفوحا او لحم خنزیر فانہ رجس او فسقا اھل لغیر اللہ بہ فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان ربک غفور رحیم (ب) (آیت ١٤٥، سورة الانعام٦)  اس آیت میں مجبوری کیوجہ سے مردہ کھانے کی اجازت دی گئی۔ساتھ ہی یہ بھی بتلایا کہ جتنی ضرورت ہو اتنی ہی حلال ہے اس سے زیادہ استعمال کرنا حرام ہے۔یہاں بھی جتنی جگہ دیکھنے کی ضرورت ہو اتنی جگہ ہی دیکھنا حلال ہوگا باقی ستر کی جگہ ابھی بھی حرام ہے۔
]٣١٢١[(٢١)مرد مرد کا دیکھ سکتا ہے پورا بدن سوائے ناف سے اس کے گھٹنے تک۔
تشریح   مرد کا ستر ناف سے گھٹنے تک ہے اس لئے کسی مرد کے لئے دوسرے مرد کا ناف سے گھٹنے تک دیکھنا حرام ہے ،باقی بدن دیکھ سکتا ہے کیونکہ وہ ستر نہیں ہے۔
وجہ  حدیث میں ہے۔عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ ۖ ... واذا زوج احدکم خادمہ عبدہ او اجیرہ فلا ینظر الی مادون السرة وفوق الرکبة (ج) (ابوداؤد شریف، باب متی یومر الغلام بالصلوة ،ص٧٧، نمبر ٤٩٦ 

حاشیہ  :  (الف) حضرت ابوہریرة فرماتے ہیں کہ حضورۖ کے پاس تھا کہ آپۖ کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ وہ انصار کی ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے۔تو حضورۖ نے پوچھا کیا اس کو دیکھا ہے؟ کہا نہیں۔آپۖ نے فرمایا جاؤ اس کو دیکھ لو اس لئے کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے(بآپۖ کہہ دیجئے کہ میری طرف جو وحی کی گئی ہے اس میں کھانے کے بارے میں نہیں پاتا ہوں کہ حرام ہے مگر یہ کہ مردہ ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سور کا گشت ہو۔اس لئے کہ وہ ناپاک ہے یا فسق ہے۔اللہ کے علاوہ پر ذبح کیا گیا ہو۔پھر جو مجبور ہو جائے تو لذت تلاش کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے زیادہ گزرنے والا ہوتو اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے(ج) آپۖ نے فرمایا ...تم میں سے کوئی ایک اپنے خادم یعنی غلام یا اجیر کی شادی کرادے تو ناف کے نیچے سے لیکر گھٹنے کے اوپر تک نہ دیکھے۔

Flag Counter