Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

349 - 485
کان لایأمن من الشھوة لم ینظر الی وجھھا الا لحاجة]٣١١٩[(١٩) ویجوز للقاضی اذا اراد ان یحکم علیھا وللشاھد اذا اراد الشھادة علیھا النظر الی وجھھا وان خاف ان 

شریف، باب فیما تبدی المرأة من زینتھا ،ج٢، ص ٢١٣، نمبر ٤١٠٤سنن للبیہقی، باب عورة المرأة الحرة ، ج ثانی ص ٣١٩، نمبر ٣٢١٨) اس حدیث میں ہے کہ بالغہ عورت کو چہرہ اور ہتھیلی کے علاوہ ظاہر نہیں کرنی چاہئے ۔البتہ چلنے کے لئے پاؤں کھولنے کی ضرورت ہے اس لئے پاؤں بھی کھول سکتی ہے۔ 
اور شہوت کا خطرہ ہوتو چہرہ بھی چھپائے اس کی دلیل ایک تو اوپر کی آیت گزری۔قل للمومنات تغضضن من ابصارھن (٢)اور حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔قال ابوہریرة عن النبی ۖ ان اللہ کتب علی ابن آدم حظہ من الزنا ادرک ذلک لا محالة فزنا العین النظر وزنا اللسان المنطق والنفس تتمنی وتشتھی والفرج یصدق ذلک کلہ ویکذبہ (الف) (بخاری شریف، باب زنا الجوارح دون الفرج ،ص ٩٢٢، نمبر ٦٢٤٣ مسلم شریف، باب قدر علی ابن آدم حظہ من الزنی وغیرہ ، ص ٣٣٦، نمبر ٢٦٥٧،کتاب القدر) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چہرے کو شہوت سے دیکھنا آنکھ کا زنا ہے۔اس لئے شہوت کاخطرہ ہو تو چہرہ چھپا لے۔لیکن اگر کھولنے کی شدید ضرورت ہوتو مجبوری میں اس کے کھولنے کی گنجائش ہے۔دوسری حدیث میں بارہا دیکھنے سے منع فرمایا ہے۔عن ابن بریدة عن ابیہ قال قال رسول اللہ ۖ لعلی یا علی! لا تتبع النظرة النظرة فان لک ا لاولی ولیس لک الآخرة (ب) (ابوداؤد شریف، باب ما یومر بہ من غض البصر ، ص ٢٩٩، نمبر ٢١٤٩) 
لغت  کف  :  ہتھیلی۔
]٣١١٩[(١٩)قاضی کے لئے جائز ہے جب وہ عورت پر حکم لگانا چاہے،اور گواہ کے لئے جائز ہے جب وہ عورت پر گواہی دینا چاہے اس کی چہرے کی طرف دیکھنا،چاہے شہوت ہونے کا اندیشہ ہو۔
تشریح  قاضی عورت پر کوئی فیصلہ کرنا چاہتا ہے ایسے موقع پر اس کے لئے چہرے کو دیکھنا جائز ہے چاہے شہوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ اسی طرح گواہ عورت کے لئے یا عورت کے خلاف گواہی دینا چاہتا ہے ۔ اور گواہی کے وقت یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ یہی عورت ہے۔اور اس کے لئے عورت کا چہرہ دیکھے تو چاہے شہوت ہونے کا اندیشہ ہو پھر بھی دیکھنا جائز ہے۔البتہ دیکھتے وقت قضاء کی نیت کرے اور گواہ گواہ کی ادائیگی کی نیت کرے، شہوت کے لئے چہرہ دیکھنے کی نیت نہ کرے۔
وجہ  عام حالات میں چہرہ کھولنا جائز تھا۔البتہ شہوت کے باوجود کھولنے کی اجازت مجبوری کے درجے میں تھی اور یہاں فیصلہ کرنے اور گواہی دینے کی مجبوری ہے۔اس لئے کھولنے کی اجازت ہوگی (٢) حدیث میں اس کا ثبوت ہے کہ جس عورت کو پیغام نکاح دیا اس عورت کا چہرہ دیکھنا 

حاشیہ  :  (الف)آپۖ نے فرمایا اللہ نے ابن آدم پر زنا کا ایک حصہ لکھا ہے اور یہ لامحالہ سرزد ہو کر رہے گا۔پس آنکھ کا زنا دیکھنا ہے،زبان کا زنا بولنا ہے۔اور دل کا زناتمنی کرنا اور خواہش کرنا ہے۔اور شرمگاہ ان سبھوں کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کرتی ہے (ب) آپۖ نے حضرت علی سے فرمایا بار بار مت دیکھو،تمہارے لئے پہلی نظر حلال ہے دوسری نظر حلال نہیں ہے۔

Flag Counter