العدل ]٣١١٨[(١٨) ولایجوز ان ینظر الرجل من الاجنبیة الا الی وجھھا وکفَّیھا فان
البتہ دیانات مثلا چاند کی گواہی کبھی کبھار پیش آتی ہے ۔اس لئے اوپر کی آیت اولئک ھم الفاسقون کی وجہ سے ان میں عادل کی گواہی مقبول ہوگی فاسق کی نہیں۔
]٣١١٨[(١٨)اور نہیں جائز ہے کہ مرد اجنبی عورت کا دیکھے سوائے اس کے چہرے اور ہتھیلیوں کے۔ پس اگر شہوت سے مامون نہ ہو تو اس کا چہرہ بھی نہ دیکھے مگر ضرورت کی وجہ سے۔
تشریح چونکہ ہتھیلی اور چہرے دیکھنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ وہ کام کرے گی جس کی وجہ سے ان دونوں عضووں کو کھولنا پڑے گا اس لئے ان کے کھولنے کی اجازت ہے۔ تاہم اگر چہرہ دیکھنے کی وجہ سے شہوت ابھرنے کا خطرہ ہو تو چہرہ بھی چھپائے رکھے۔کیونکہ یہ تو مجمع محاسن ہے۔ اور شہوت ابھرنے کے خطرے کے باوجود چہرہ کھولنے کی شدید ضرورت پڑ گئی مثلا گواہی دینے کے لئے آنا ہے یا نکاح کرنے کے لئے ہونے والے شوہر کو چہرہ دکھلانا ہے تو ایسی ضرورت میں شہوت کے خطرے کے باوجود اجنبی کے سامنے چہرہ کھول سکتی ہے۔
وجہ ستر چھپانے کی وجہ یہ آیت ہے۔ قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذلک ازکی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعون (الف) (ؤیت ٣٠،سورة النور ٢٤) اس آیت میں مردوں کونیچی نگاہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے (٢) دوسری آیت میں عورتوں کو نیچی نگاہ رکھنے کی تاکید کی ہے۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ اپنی زینت کوظاہر نہ کریں۔البتہ جو مجبوری کے درجے میں ظاہر ہوجائے یعنی ہتھیلی اور چہرہ اس کی گنجائش ہے ۔آیت یہ ہے ۔وقل للمومنات یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن ولا یبدین زینتھن الا لبعولتھن (ب) (آیت ٣١، سورة النور ٢٤) اس آیت میں ہے کہ عورتیں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔یہ بھی فرمایا کہ سینوں پر کپڑا ڈالا کریں۔
ہاتھ اور چہرہ اس سے مستثنی ہیںاس کی دلیل ولا یبدین زینتھن الا ماظھر منھا کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس سے ہے۔ عن عباس فی قولہ تعالی ولا یبدین زینتھن الا ماظھر منھا قال مافی الکف والوجہ (ج) (سنن للبیہقی ،باب عورة المرأة الحرة ،ج ثانی ، ص ٣١٨،نمبر ٣٢١٤) اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ چہرہ اور ہتھیلی کو چھپانا ضروری نہیں (٢) حدیث میں بھی اس کی وضاحت ہے۔عن عائشہ ان اسماء بنت ابی بکر دخلت علی رسول اللہ ۖ وعلیھا ثیاب رقاق فاعرض عنھا رسول اللہ ۖ وقال یا اسماء ! ان المرأة اذا بلغت المحیض لم یصلح لھا ان یری منھا الا ھذا وھذاواشار الی وجھہ وکفیہ (د) (ابوداؤد
حاشیہ : (الف)مومنوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے۔وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس کی خبر رکھتے ہیں(ب) مومنہ عورتوں سے کہئے کہ اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو خود بخود ظاہر ہو جائے۔اور اپنے سینے پر دوپٹہ ڈالیں ۔اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر شوہر کے لئے (ج) حضرت ابن عباس نے ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا کی تفسیر فرمائی ہتھیلی اور چہرہ۔ یعنی یہ دونوں کھلے رہ سکتے ہیں(د) حضرت اسمائ حضورۖ کے سامنے آئی اور ان پر پتلا کپڑا تھا تو آپۖ نے اعراض فرمایا اور کہا اے اسمائ! عورت جب بالغ ہو جائے تو اس کے لئے جائز نہیں ہے اس کے اور اس کے علاوہ نظر آئے۔اور چہرے اور ہتھیلی کی طرف اشارہ فرمایا۔