Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

347 - 485
]٣١١٧[ (١٧) ویُقبل فی المعاملات قول الفاسق ولایُقبل فی اخبار الدیانات الا قول 

بچے کے لئے اثر اور حدیث تو یہی ہے کہ اس کی گواہی مقبول نہیں لیکن چھوٹی چیزوں میں اس کی خبر مقبول ہے۔
وجہ  اثر یہ ہے۔عن شریح انہ کان یجیز شھادة الصبیان علی السن والموضحة ویتأباھم فیما سوی ذلک (الف) (مصنف ابن ابی شیبة ،١٢٤ فی شھادة الصبیان ، ج رابع، ص ٣٦٤، نمبر ٢١٠٢٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ چھوٹی موٹی چیزوں میں اس کی خبر قبول کی جائیگی۔یہ اصل میں شہادت نہیں بلکہ خبر دینی ہے۔
لغت  والاذن  :  کی صورت یہ ہے کہ بچہ غلام کو خبر دے کہ میرے باپ نے تم کو تجارت کرنے کی اجازت دی ہے۔یا غلام خبر دے کہ میرے آقا نے تم کو تجارت کرنے کی اجازت دی ہے تو ان کی خبر اس بارے میں مقبول ہے۔اور اس پر عمل کرتے ہوئے غلام کو تجارت کرنے کی اجازت ہو جائے گی۔
]٣١١٧[(١٧)قبول کیا جائے گا معاملات میں فاسق کا قول اور نہیں قبول کیا جائے گا دیانات کی خبروں میں مگر عادل کا قول۔
تشریح   جھوٹ بولنے کی وجہ سے فاسق ہوا ہے تب تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔کیونکہ آیت میں اس کی ممانعت ہے۔فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور (ب) (آیت ٣٠،سورة الحج ٢٢) اس آیت میں جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔لیکن اگر فسق کسی اور گناہ کی وجہ سے ہے مثلا کسی کا مال کھایا جس کی وجہ سے فاسق ہواہے تو معاملات میں اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔حدود اور قصاص میں تو پھر بھی گواہی مقبول نہیں ہوگی۔
وجہ  معاملات کثرت سے ہوتے رہتے ہیں۔اور ہر وقت دیانت دار اور عادل آدمی نہیں ملتا اس لئے معاملات میں فاسق کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے۔جیسے بیع،شراء میں فاسق کی گواہی قبول کی جائے گی۔تاہم عادل کی گواہی زیادہ بہتر ہے (٢) اثر میں ہے۔ وجلد عمر ابا بکرة وشبل بن معبد ونافعا بقذف المغیرة ثم استتا بھم وقال من تاب قبلت شھادتہ واجاز عبد اللہ بن عتبة وعمر بن عبد العزیز وسعید بن جبیر وطاؤس ومجاھد والشعبی (ج) (بخاری شریف، باب شھادة القاذف والسارق والزانی ،ص ٣٦١، نمبر ٢٦٤٨) اس اثر میں ہے کہ حد قذف والا توبہ کرے تو اس کی گواہی مقبول ہے۔آیت میں ہے کہ حد قذف والا فاسق ہوتا ہے۔ولا تقبلوا لھم شھادة ابدا واولئک ھم الفاسقونo الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا (د) (آیت ٥٤، سورة النور ) اس آیت میں ہے کہ حد قذف والا فاسق ہے۔ اس کے باوجود اس کی گواہی اثر کی بناپر مقبول ہے تو اور فاسقوں کی گواہی بھی مقبول ہوگی۔

حاشیہ  :   (الف) حضرت شریح بچے کی گواہی جائز قرار دیتے تھے عمر کے بارے میں اور زخم کے بارے میں اور ان کے علاوہ میں جائز قرار نہیں دیتے تھے(ب) بت پرستی کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی گواہی دینے سے بچو(ج) حضرت عمر نے ابوبکرہ اور شبل بن معبد اور نافع کو مغیرہ پر تہمت لگانے کی وجہ سے کوڑے لگائے پھر ان سے کہا کہ توبہ کرو۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جو توبہ کرے گا اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔عبد اللہ بن عتبہ اور عمر بن عبد العزیز اور سعید بن جبیر اور طاؤس اور مجاہد اور شعبی نے محدود فی القذف کی گواہی قبول کرنے کی اجازت دی ہے (د) محدود فی القذف کی گواہی کبھی قبول نہ کرووہ فاسق ہے۔ مگر جو توبہ کرے اور اصلاح کرے تو اس کی گواہی قبول کرو۔

Flag Counter