]٣١١٦[(١٦) ویجوز ان یقبل فی الھدیة والاذن قول العبد والصبی۔
علی فرس (الف) (ترمذی شریف، باب ماجاء فی کراہیة ان ینزی الحمر علی الخیل ،ص ٢٩٨، نمبر ١٧٠١) اس حدیث میں ہے گدھے کو گھوڑی پر چڑھانے سے منع فرمایا۔جس سے معلوم ہوا کہ ایسا عمل کرنا شریف آدمی کے لئے اچھا نہیں ہے۔
لیکن اگر ایسا ہو گیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔
وجہ کیونکہ آپۖ خچر پر سوار ہوتے تھے۔جس سے معلوم ہوا کہ خچر پیداہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔حدیث یہ ہے ۔سمع البراء وسالہ رجل من قیس افررتم عن رسول اللہ ۖ یوم حنین ... ولقد رأیت النبی ۖ علی بغلتہ البیضاء وان ابا سفیان بن الحارث آخذ بزمامھا (ب) (بخاری شریف، باب قول اللہ تعالی ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم ، ص ٦١٧، نمبر ٤٣١٧) اس حدیث میں ہے کہ آپۖ جنگ حنین میں سفید خچر پر سوار تھے۔جس سے معلوم ہوا کہ وہ پیدا ہو جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
لغت انزاء : نر کو مادہ پر کودانا۔
]٣١١٦[(١٦)جائز ہے ہدیہ اور اجازت میں غلام اور بچے کے قول کو قبول کرنا۔
تشریح ایسی شہادت جس سے کسی کا حق ثابت ہوتا ہو جس کو معاملات کی شہادت کہتے ہیں اس میں بچے اور غلام کی شہادت مقبول نہیں ہے۔لیکن ہدیہ وغیرہ چھوٹی چیز ہے ۔اس میں کسی کا حق ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ اسکی خبر دینی ہے کہ میرے آقا نے یہ چیز آپ کے لئے ہدیہ بھیجی ہے۔یا میرے باپ نے یہ چیز آپ کے لئے ہدیہ بھیجی ہے۔ اس لئے ایسی خبر میں ان دونوں کی بات قبول کی جائے گی۔اور جس کو ہدیہ دی گئی ہے اس کے لئے جائز ہوگا کہ ان کی باتوں پر یقین کرکے ہدیہ قبول کرے۔
وجہ اثر میں ہے۔ سألت انسا عن شھادة العبد فقال جائز (ج) (مصنف ابن ابی شیبة،٣٤ من کان یجیز شھادة العبد،ج رابع، ص ٢٩٨، نمبر ٢٠٢٧٥) اس اثر میں ہے کہ غلام کی گواہی جائز ہے۔جب معاملات میں جائز ہے تو ہدیہ وغیرہ میں بدرجۂ اولی جائز ہوگا (٢) وقال انس شھادة العبد جائزة اذا کان عدلا واجازہ شریح وزرارہ ابن اوفی (د) اس سے آگے حدیث میں فجاء ت امة سودائ،فقالت قدار ضعتکما فذکرت ذلک للنبی ۖ فاعرض عنی قال فتنحیت فذکرت ذلک لہ قال وکیف وقد زعمت انھا قد ارضعتکما ؟ فنھاہ عنھا (ہ) (بخاری شریف، باب شھادة الاماء والعبید ، ص ٣٦٣، نمبر ٢٦٥٩) اس حدیث اور اثر سے معلوم ہوا کہ باندی اور غلام کی گواہی مقبول ہے۔
حاشیہ : (الف) عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں حضورۖ عبد مامور تھے۔لوگوں کو چھوڑ کر ہمیں کسی چیزکے ساتھ خاص نہیں کیا مگر تین چیز کے ساتھ۔ہمیں پورا پورا وضو کرنے کا حکم دیا۔اور یہ کہ ہمیں صدقہ نہ کھائیں اور نہ گدھے کو گھوڑی پر چڑھائیں(ب) قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے حضرت براء کو پوچھا کیا آپ لوگ جنگ حنین میں بھاگے تھے؟ ... میں نے حضورۖ کو سفید خچر پر سواردیکھا اور حضرت ابوسفیان اس کے لگام کو پکڑے ہوئے تھے۔(ج) میں نے حضرت انسۖ کو غلام کی گواہی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا جائز ہے (د) حضرت انس نے فرمایا غلام کی گواہی جائز ہے جب وہ عادل ہو۔اور حضرت شریح اور زرارہ ابن اوفی نے بھی جائز قرار دیا (ہ)ایک کالی باندی آئی اور کہا میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔پس حضورۖ کے سامنے اس کا تذکرہ کیاتوآپۖ نے اعراض فرمایا۔راوی فرماتے ہیں میں تھوڑا دور ہوا اور اس کا تذکرہ کیا۔آپۖ نے فرمایا کیسے ہوگا جب وہ کہتی ہے کہ تم دونوں کو دودھ پلایا۔پس حضورۖ نے لڑکے کو منع فرمایا۔