]٣١١٤[(١٤) ویکرہ استخدام الخصیان]٣١١٥[١٥) ولا بأس بخصاء البھائم وانزاء الحمیر علی الخیل۔
ت زخرفة : خوبصورت بنانا،مزین کرنا۔
]٣١١٤[(١٤)مکروہ ہے خصی سے خدمت لینا۔
تشریح خصی مرد سے خدمت لینا مکروہ ہے۔
وجہ اس طرح خصی بننے کی ہمت افزائی ہوگی۔اس لئے خصی کئے ہوئے مرد سے خدمت لینا مکروہ ہے (٢) حدیث میں خصی کروانے سے منع فرمایا ہے۔عن ابن عمر قال نھی رسول اللہ ۖ عن اخصاء الخیل والبھائم وقال ابن عمر فیھا نماء الخلق (الف) (مسند احمد، سند عبد اللہ بن عمر ، ج ثانی ص ١٠١ ،نمبر ٤٧٥٥)مصنف ابن ابی شیبة،٧ ماقالوا فی خصاء الخیل والدواب من کرھہ ،ج سادس، ص ٤٢٦، نمبر ٣٢٥٦٧)اس حدیث میں خصی کرنے سے منع فرمایا اس لئے خصیوں سے خدمت لینا مکروہ ہے۔
]٣١١٥[(١٥)کوئی حرج نہیں ہے جانوروں کو خصی کرنے میں اور گدھے کو گھوڑی پر ڈالنے میں۔
تشریح اوپر گزرا کہ جانور کو خصی کرنے میں نسل کشی ہوگی اس لئے یہ ممنوع ہے۔ لیکن بکرے کوخصی نہ کرے تو وہ موٹا نہیں ہوتا اور گوشت اچھا نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ وہ شرارت بہت کرتا ہے اس لئے اس کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح بیل کو خصی نہ کرے تو وہ طاقتور نہیں ہوتا اور ہل جوتنے کے قابل نہیں ہوتا(میں خود کسان ہوں مجھے اس کا تجربہ ہے ) اس لئے اس کو بھی خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔البتہ بعض کو سانڈھ ہونے کے لئے چوڑ دیا جائے تاکہ نسل ختم نہ ہو۔
وجہ حضورۖ نے خصی بکرے کی قربانی کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خصی کرنا جائز ہے ورنہ آپۖ خصی کی قربانی نہ کرتے۔حدیث یہ ہے۔عن جابر بن عبد اللہ قال ذبح النبی ۖ یوم الذبح کبشین اقرنین املحین موجئین (ب) (ابوداؤد شریف، باب ما یستحب من الضحایا ،ج٢، ص ٢٠، نمبر ٢٧٩٥ ابن ماجہ شریف، باب اضاحی رسول اللہ ۖ ،ص ٤٥٥، نمبر ٣١٢٢) اس حدیث میں ہے کہ آپۖ نے خصی کئے ہوئے دو بکرے ذبح فرمائے۔جس سے معلوم ہوا کہ بعض جانور کو خصی کرنا جائز ہے۔ موجئین کے معنی خصی (٢) اثر میں ہی۔عن الحسن قال لابأس بخصاء الدواب (ج) (مصنف ابن ابی شیبة ،٨ ،من رخص فی خصاء الدواب ،ج سادس، ص ٤٢٦، نمبر ٣٢٥٧٩)
اپنے طور پر گدھے کو گھوڑی پر چڑھا کر خچر پیدا کروانا شریف آدمی کے لئے اچھا عمل نہیں ہے۔البتہ اگر گدھا اور گھوڑی ایسا کر لیں اور خچر پیدا ہوجائے تو جائز ہے۔
وجہ اپنے طور پر گدھے کو گھوڑی پر چڑھانا اچھا عمل نہیں ہے اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔عن ابن عباس قال کان رسول اللہ ۖ عبدامامورا ما اختصنا دون الناس بشیء الا بثلاث امرنا ان نسبغ الوضوء ،وان لا ناکل الصدقة،وان لا ننزی حمارا
حاشیہ : (الف) حضورۖ نے گھوڑے اور جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا،ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے سے مخلوق کی بڑھوتری ہے(ب)حضورۖ نے بقرہ عید کے دن دو مینڈھے ذبح کئے جو سینگ والے چتکبرے اورخصی تھے (ج) حضرت حسن نے فرمایا چوپائے کے خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔