یکرہ التعشیر فی المصحف والنقط]٣١١٣[(١٣) ولا بأس بتحلیة المصحف ونقش المسجد وزخرفتہ بماء الذھب۔
المصحف وان یکتب فیہ شیء من غیرہ (الف) (مصنف ابن ابی شیبة،٥٦ التعشیر فی المصحف، ج سادس، ص ١٤٩، نمبر ٣٠٢٣٣٣٠٢٣٨٣٠٢٣٢)ان تین اثروں سے معلوم ہوا کہ دس آیتوں پر نشان لگانا یا حروف پر نقطے لگانا مکروہ ہے۔
لغت التعشیر : عشر سے مشتق ہے،دس آیتوں پر رکوع کا نشان لگانا، المصحف : قرآن کریم۔
]٣١١٣[(١٣)کوئی حرج کی بات نہیں ہے سونے کے پانی سے قرآن کو آراستہ کرنے میں ،اور مسجد کو منقش کرنے میں اور مزین کرنے میں۔
تشریح قرآن کو سونے کے پانی سے آراستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اسی طرح مسجد کو سونے کے پانی سے آراستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وجہ نقش و نگار کے سلسلے میں تو حضرت عثمان کا عمل ہے ۔لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔حدثنا نافع ان عبد اللہ اخبرہ ان المسجد کان علی عھد رسول اللہ ۖ مبنینا باللبن وسقفہ الجرید وعمدہ خشب النخل ... ثم غیرہ عثمان فزاد فیہ زیادة کثیرة وبنی جدارہ بالحجارة المنقوشة والقصة وجعل عمدہ من حجارة منقوشة وسقفہ بالساج (ب) (بخاری شریف، باب بنیان المسجد،ص ٦٤، نمبر ٤٤٦ ابوداؤد شریف، باب فی بناء المساجد ،ص ٧١، نمبر ٤٥١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم اور مسجد کو آراستہ اور نقش و نگار کر سکتے ہیں (٢) عن محمد (ابن سیرین) قال لابأس ان یحلی المصحف (ج) (مصنف ابن ابی شیبة ،٥٥ من رخص فی حلیة المصحف ،ج سادس، ص ١٤٩، نمبر ٣٠٢٣١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو سونے کے پانی سے مزین کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔کیونکہ اس میں اس کی تعظیم ہے۔اور اسی پر مسجد کو سونے کے پانی سے مزین کرنے کو قیاس کر سکتے ہیں۔
فائدہ البتہ بہت زیادہ بھڑکدار بنانا مکروہ ہے۔
وجہ حدیث میں۔ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ۖ ما امرت بتشیید المساجد ،قال ابن عباس لتزخرفنھا کما زخرفت الیھود والنصاری (د) (ابوداؤد شریف، باب فی بناء المساجد ، ص ٧١، نمبر ٤٤٨)٢٠) اثر میں ہے ۔قال ابوذر زوقتم مساجدکم وحلیتم مصاحفکم فالدمار علیکم (ہ) (مصنف ابن ابی شیبة ،٥٤،فی المصحف یحلی ، ج سادس، ص ١٤٨، نمبر ٣٠٢٢٨) اس حدیث اور اثر سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ زینت مکروہ ہے۔ ایک مناسب انداز میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حاشیہ : (الف) حضرت عطائ ہر دس آیتوں پر نشان لگانا مکروہ سمجھتے تھے،اور قرآن کے علاوہ کچھ لکھنے کو بھی مکروہ سمجھتے تھے(ب) حضرت عبد اللہ نے خبر دی کہ حضورۖ کے زمانے میں مسجد کچی اینٹ کی بنی ہوئی تھی۔اور اس کی چھت کھجور کی پتی کی تھی۔اور اس کا کھمبا کھجور کے تنے کا تھا...پھر حضرت عثمان نے اس کو بدلا اور اس میں کافی اضافہ کیا۔اس کی دیوار نقش و نگار پتھر سے اور چونے سے بنوایا۔اور اس کا ستون نقش و نگار پتھر سے بنوایا۔اور اس کی چھت ساگوں کی لکڑی کی ڈلوائی (ج) حضرت محمد بن سیرین نے فرمایا قرآن کریم کو مزین کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے (د) آپۖ نے فرمایا مجھے مساجد کو بہت مضبوط کرنے کا حکم نہیںدیا،حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ تم یہود اور نصاری کی طرح مسجد کو مزین کروگے(ہ) حضرت ابوذر نے فرمایا تم مسجدوں کو مزین کرنے لگو اور قرآن کریم کو آراستہ کرنے لگو تو تم پر ہلاکت ہے۔