]٣١١١[ (١١) ویجوز الشرب فی الاناء المفضَّض عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی والرکوب علی السرج المفضَّض والجلوس علی السریر المفضَّض٣١١٢[ (١٢) و
]٣١١١[(١١)جائز ہے چاندی چڑھے برتن میں پینا امام ابو حنیفہ کے نزدیک،اور جائز ہے چاندی چڑھے زین پر سوار ہونا ،اور چاندی چڑھے تخت پر بیٹھنا۔
تشریح چیز چاندی کی نہ ہو لیکن کہیں کہیں چاندی لگی ہوئی ہو تو اس کا استعمال کرنا جائز ہے۔ مثلا برتن میں کہیں کہیں چاندی لگی ہوئی ہے یا تخت پر کہیں کہیں چاندی لگی ہوئی ہے یا گھوڑے کی زین پر چاندی لگی ہوئی ہے تو ان کا استعمال کرنا جائز ہے۔اور اتنی سی چاندی درست ہے۔
وجہ حدیث میں ہے کہ حضورۖ کا ٹوٹا ہوا پیالہ چاندی سے باندھا ہوا تھا۔حضورۖ کی تلوار کے دستے پر چاندی تھی۔حدیث یہ ہے۔ عن عاصم الاحول قال رأیت قدح النبی ۖ عند انس بن مالک وکان قد انصدع فسلسلہ بفضة ،قال وھو قدح جید عریض من نضار ،قال قال انس لقد سقیت رسول اللہ ۖ فی ھذا القدح اکثر من کذا وکذا(الف) (بخاری شریف، باب الشرب من قدح النبی ۖ وانیتہ ،ص ٨٤٢،نمبر ٥٦٣٨)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ برتن کو چاندی سے باندھا ہو تو اس کو استعمال کرنا جائز ہے۔ابوداؤد شریف میں ہے۔عن انس قال کانت قبیعة سیف رسول اللہ ۖ فضة (ب)ابوداؤد شریف، باب فی السیف یحلی ،ص ٧٢٨،نمبر ٢٥٨٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضورۖ کی تلوار کے دستے میں چاندی تھی ۔اس سے معلوم ہوا کہ زین وغیرہ پر تھوڑی چاندی ہوتو جائز ہے۔
فائدہ امام ابویوسف کے نزدیک چاندی کی ممانعت کی عام احادیث کی وجہ سے مکروہ ہے۔
لغت المفضض : فضة سے مشتق ہے چاندی جڑی ہوئی ، سرج : زین ، سریر : تخت۔
]٣١١٢[(١٢)مکروہ ہے قرآن میں ہر دس آیت پرنشان لگانا اور نقطے لگانا۔
تشریح شروع میں لوگ عربی جانتے تھے، اس کے اسلوب سے واقف تھے۔اس لئے قرآن کریم میں رکوع وغیرہ نہیں لکھتے تھے۔اور نہ زبر زیر لکھتے اور نہ نقطہ لگاتے تھے۔ اس لئے ایسا کرنا مکروہ سمجھا جاتا تھا۔کیونکہ قرآن کریم کو ویسا ہی رکھنا بہتر ہے جیسا پہلے تھا۔لیکن بعد میں عجمیوں کی سہولت کے لئے یہ سب کرنا پڑا اور اب یہ امر مستحسن ہے۔
وجہ مکروہ ہونے کی وجہ یہ اثر ہے۔ عن عبد اللہ (بن مسعود) انہ کرہ التعشیر فی المصحف (ج) دوسری روایت میں ہے۔عن محمد انہ کرہ الفواتح والعواشر التی فیھا قاف وکاف (د) تیسری روایت میں ہے۔عن عطاء انہ کان یکرہ التعشیر فی
حاشیہ : (الف) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضورۖ کا پیالہ حضرت انس کے پاس دیکھا۔اس کا ایک کنارہ ٹوٹ گیا تھا۔جس کو چاندی کی زنجیر سے باندھا تھا۔فرمایا وہ پیالہ اچھا تھا ،چوڑا تھا،جھاؤ کی لکڑی کا تھا۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضورۖ کو اس پیالے میں اتنی اتنی مرتبہ پلایا (ب) حضوۖرکی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا (ج)حضرت عبد اللہ بن مسعود قرآن کریم میں ہر دس آیتوں پر نشان لگانے کو مکروہ سمجھتے تھے (د) امام محمد شروع میں نشان لگانا اور ہر دس آیتوں پر نشان لگانا جس میں قاف اور کاف ہو مکروہ سمجھتے تھے۔