Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

342 - 485
]٣١١٠[(١٠) ولابأس باستعمال اٰنیة الزجاج والرصاص والبلّور والعقیق۔

مرد کے لئے جائز ہے اور نہ عورت کے لئے جائز ہے۔
وجہ  اس کی اجازت دے دی جائے تو غریبوںسے مال وصول کرنے کے لئے ظلم کریںگے اور غریبوں کی زندگی اجیرن کر دیںگے اس لئے سونے چاندی کے برتنوں کو استعمال کرنا حرام قرار دیا (٢) حدیث میں اس کی ممانعت ہے۔ عن ابن ابی لیلی قال خرجنا مع حذیفة وذکر النبی ۖ قال لا تشربوا فی آنیة الذھب والفضة ولاتلبسوا الحریر والدیباج فانھا لھم فی الدنیا ولکم فی الآخرة (الف)دوسری روایت میں ہے۔عن ام سلمة زوج النبی ۖان رسول اللہ ۖ قال الذی یشرب فی اناء الفضة انما یجرجر فی بطنہ نار جہنم (ب) (بخاری شریف، باب آنیة الفضة ،ص ٨٤١،نمبر ٥٦٣٣ ٥٦٣٤ مسلم شریف، باب تحریم استعمال اناء الذھب والفضة الخ ،ص ١٨٨ ، نمبر ٢٠٦٧) اس حدیث میں مرد اور عورت دونوں کو سونے اور چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔
لغت  الادھان  :  دہن سے مشتق ہے تیل لگانا،  التطیب  :  طیب سے مشتق ہے خوشبو لگانا،  آنیة  :  برتن۔
]٣١١٠[(١٠)کوئی حرج نہیں کانچ ، رانگ،بلور اور سرخ مہروں کے برتن استعمال کرنے میں۔
وجہ  حدیث میں ہے کہ حضورۖ نے پیتل کے برتن میں وضو اور غسل فرمایا ہے۔ اور کانچ، رانگ،،بلور اور مہر ے پیتل ہی کی طرح ہیں۔اس لئے ان کے برتنوں کو استعمال کرنا جائز ہوگا۔ (٢) حدیث یہ ہے۔ان عائشة  قالت کنت اغتسل انا ورسول اللہ ۖ فی تور من شبة (ج) دوسری روایت میں ہے۔ عن عبد اللہ بن زید قال جاء نا رسول اللہ ۖ فاخرجنالہ ماء فی تور من صفر فتوضأ (د) (ابوداؤد شریف، باب الوضوء فی آنیة الصفر ،ص ١٥، نمبر ١٠٠٩٨ بخاری شریف، باب الغسل والوضوء فی المخضب والقدح والخشب والحجارة ،ص ٣٢، نمبر ١٩٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیتل کے برتن کو استعمال کرنا جائز ہے۔اور پتھر کے برتن کو استعمال کرنے کی دلیل یہ حدیث ہے۔عن انس قال حضرت الصلواة ... فاتی رسول اللہ بمخضب من حجارة فیہ ماء فصغر المخضب ان یبسط فیہ کفہ (ہ) (بخاری شریف، باب الغسل والوضوء فی المخضب والقدح والخشب والحجارة ،ص ٣٢، نمبر ١٩٥) اس حدیث میں ہے کہ پتھر کا لگن وضوء کے لئے استعمال کیا۔اور مہرہ اور بلور پتھر کی جنس میں سے ہیں اس لئے ان کے برتنوں کا استعمال کرنا جائز ہوگا۔
لغت  زجاج  :  کانچ،  رصاص  :  رانگ،  بلور  :  ایک قسم کا شیشہ،سفید شفاف جوہر،  عقیق  :  سرخ مہرے۔

حاشیہ  :  (الف) ہم حضرت حذیفہ کے ساتھ نکلے ،انہوں نے حضوۖر کا تذکرہ کیا،فرمایا سونے اور چاندی کے برتن میں مت پیو اور نہ ریشم اور دیباج پہنو۔اس لئے کہ وہ کافروں کے لئے دنیا میں ہے اور تمہارے لئے آخرت میں ہے(ب) حضورۖ نے فرمایا جو چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیل رہا ہے (ج)حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اور حضوۖر پیتل کے برتن میں غسل کیا کرتے تھے (د)حضرت عبد اللہ بن زید فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضورۖ تشریف لائے تو ہم نے آپۖ کے لئے پیتل کے برتن میں پانی نکالا جس سے آپۖ نے وضوء فرمایا (ہ) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوا ... حضورۖ کے سامنے پتھر کا لگن لایا گیاجس میں پانی تھا۔لگن ہتھیلی پھیلانے کے قابل نہیں تھا، تھوڑا چھوٹا تھا۔

Flag Counter