]٣١٠٨[(٨)ویکرہ ان یلبس الصبی الذھب والحریر]٣١٠٩[(٩) ولا یجوز الاکل والشرب والادّھان والتطیُّب فی اٰ نیة الذھب والفضة للرجال والنسائ۔
قال حرم لباس الحریر والذھب علی ذکور امتی واحل لاناثھم(الف) (ترمذی شریف، باب ماجاء فی الحریر والذھب للرجال ، ص ٣٠٢، نمبر ١٧٢٠)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے سونا پہننا جائز ہے۔مرد کے لئے تھوڑی سی چاندی پہننا جائز ہے تو عورت کے لئے بدرجہ اولی جائز ہوگی (٢) ایک اور حدیث میں ہے۔ عن عائشة قالت قدمت علی النبی ۖ حلیة من عند النجاشی اھداھا لہ فیھا خاتم من ذھب فیہ فص حبشی قالت فاخذہ رسول اللہ ۖ بعود معرضا عنہ او ببعض اصابعہ،ثم دعا امامة بنت ابی العاص بنت ابنتہ زینب ،فقال تحلی بھذا یا بنیة (ب) (ابوداؤد شریف، باب ماجاء فی الذھب للنساء ،ص ٢٣٠، نمبر ٤٢٣٥) اس حدیث میں سونے کی انگوٹھی اپنی نواسی حضرت امامة کو عنایت فرمایا ،جس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے سونا پہننا جائز ہے۔ اور جب سونا جائز ہے تو چاندی بدرجہ اولی جائز ہوگی۔
لغت تحلی : زیور پہننا۔
]٣١٠٨[(٨)مکروہ ہے کہ بچے کو سونا یا ریشم پہنائے۔
تشریح بچہ اگرچہ مکلف نہیں ہے پھر بھی مرد ہے اس لئے اس کو سونا یا ریشم پہنانا مکروہ ہے۔
وجہ اثر میں ہے۔ عن جابر قال کنا ننزعہ (یعنی الحریر) عن الغلمان ونترکہ علی الجواری (ج) (ابوداؤد شریف، باب فی الحریر للنساء ،ج ٢، ص ٢٠٦، نمبر ٤٠٥٩) دوسری اثر میں ہے ۔سأل بجیر سعید بن جبیر وانا جالس عندہ عن لبس الحریر فقال سعید غاب حذیفة بن الیمان غیبة فکسی بنیہ وبناتہ قمص الحریر فلما قدم امر بہ فنزع عن الذکور وترک علی الاناث قال محمد وبہ ناخذ (د) (کتاب الآثار لامام محمد ،ص ١٨٧، نمبر ٨٤٨) ان دونوں اثروں سے معلوم ہوا کہ بچے کو بھی سونا اور ریشم نہیں پہننا چاہئے۔
]٣١٠٩[(٩)نہیں جائز ہے کھانا،پینا،تیل لگانا اور خوشبو لگانا سونے اور چاندی کے برتن میں مردوں کے لئے اور عورتوں کے لئے۔
تشریح عورتوں کے لئے سونے چاندی کا زیور استعمال کرنا تو جائز ہے لیکن سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا،پینا ،تیل لگانا اور خوشبو لگانا نہ
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام کیا اور عورتوں کے لئے حلال کیا(ب) حضورۖ کے پاس حضرت نجاشی کے پاس سے زیور آیا ۔انہوں نے حضورۖ کو ہدیہ دیا تھا ،اس میں سونے کی انگوٹھی تھی جس کا نگینہ حبشی تھا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضورۖ نے ایک لکڑی کے ذریعہ اعراض کرتے ہوئے اس کو لیا۔یا کسی انگلی سے انگوٹھی کو پکڑا پھر امامہ بنت ابی العص کو بلایا اور فرمایا بیٹی اس کو پہنو(ج) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ریشم کا کپڑا لڑکوں سے اتار لیتے تھے اور لڑکیوں پر چھوڑ دیتے تھے (د)بجیر نے حضرت سعید بن جبیر سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا میں بھی وہیں تھا۔ حضرت سعید نے فرمایا حذیفہ بن یمان کہیں باہر چلے گئے تو اس کے بیٹے اور بیٹیوں کو ریشم کی قمیصیں پہنایا ۔پس جب وہ واپس آئے تو لڑکوں سے کھولنے کا حکم دیا اور لڑکیوں پر چھوڑے رکھا۔حضرت امام محمد فرماتے ہیں کہ ہم اسی پر عمل کرتے ہیں۔