Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

340 - 485
]٣١٠٦[(٦) ولابأس بالخاتم والمنطقة وحِلیة السیف من الفضة]٣١٠٧[(٧) ویجوز للنساء التحلّی بالذھب والفضة ۔
 
مسلم شریف، باب تحریم استعمال اناء الذھب والفضة علی الرجال والنساء الخ ،ج ٢، ص ١٨٨، نمبر ٢٠٦٦) ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ مرد کے لئے سونے اور چاندی کا زیور پہننا جائز نہیں ہے۔
لغت  تحلی  :  حلی سے مشتق ہے زیور پہننا،  الذھب  :  سونا،  الفضة  :  چاندی۔
]٣١٠٦[(٦)کوئی حرج نہیں ہے انگوٹھی،پٹکے اور تلوار کے زیور میں جو چاندی کا ہو۔
تشریح   انگوٹھی چاندی کی ہو یا پٹکا چاندی کا ہو یا تلوار میں چاندی کا زیور لگا ہو تو اس کے استعمال کرنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
وجہ  حدیث میں ہے کہ حضورۖ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی پھر اس کو پھینک دیا اورچاندی کی انگوٹھی بنوائی۔عن عبد اللہ  ان رسول اللہ ۖ اتخذ خاتما من ذھب وجعل فصہ مما یلی کفہ فاتخذہ الناس فرمی بہ واتخذ خاتما من ورق او فضة (الف) (بخاری شریف، باب خواتیم الذھب ، ص ٨٧١، نمبر ٥٨٦٥ مسلم شریف، باب خاتم الورق فصہ حبشی،ص ١٩٦، نمبر ٢٠٩٤ ابوداؤد شریف، باب ماجاء فی اتخاذ الخاتم ، ص ٢٢٧، نمبر ٤٢١٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرد چاندی کی انگوٹھی بنوا سکتا ہے۔
تلوار میں چاندی کے زیور کے لئے یہ حدیث ہے۔ عن انس قال کانت قبیعة سیف رسول اللہ فضة (ب) (ابوداؤد شریف، باب فی السیف یحلی،ص ٣٥٥، نمبر ٢٥٨٣ نسائی شریف،باب حلیة السیف ، ص ٧٢٨، نمبر ٥٣٧٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تلوار میں چاندی ہو اس کے دستے میں چاندی ہو تو جائز ہے۔اور پٹکے کو اس پر قیاس کرسکتے ہیں۔عن عاصم الاحول قال رأیت قدح النبیۖ عند انس بن مالک وکان قد انصدع فسلسلہ بفضة قال ھو قدح جید عریض من نضار قال قال انس لقد سقیت رسول اللہ ۖ فی ھذا القدح اکثرمن کذاو کذا (ج) (بخاری شریف، باب الشرب من قدح النبی ۖ وآنیتہ ،ص ٨٤٢، نمبر ٥٦٣٨) اس حدیث میں ٹوٹے ہوئے پیالے پر چاندی چڑھایا ۔جس سے معلوم ہوا کہ پٹکے پر چاندی لگانا جائز ہے (٣) اصل میں نمونے کے طور پر چاندی استعمال کرنا جائز ہے۔اور اتنی سی چاندی نمونے کے طور پر ہی ہوتی ہے اس لئے اتنی چاندی کا استعمال جائز ہے۔
لغت  منطقة  :  پٹکا،  حلیة السیف  :  تلوار کا زیور۔
]٣١٠٧[(٧)عورتوں کے لئے سونے اور چاندی کا زیور پہننا جائز ہے۔
وجہ  حدیث میں پہلے گزر چکا کہ عورتوں کے لئے سونا اور چاندی کا زیور پہننا جائز ہے۔ عن ابی موسی اشعری  ان رسول اللہ ۖ 

حاشیہ  :  (پچھلے صفحہ سے آگے)   سونے کے حلقے سے،ریشم سے،استبرق سے،دیباج سے،سرخ میثرہ سے، قسئی سے،چاندی کے برتن سے(الف)آپۖ نے سونے کی انگوٹھی بنائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کیا تو لوگوں نے بھی انگوٹھی بنائی۔پھر آپۖ نے اس کو پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنائی (ب) حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضورۖ کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا (ج) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس کے پاس حضورۖ کا پیالہ دیکھا اس کا ایک کنارہ ٹوٹ گیا تھا جس کو چاندی سے باندھا تھا۔وہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹا سا پیالہ تھا چوڑا تھا اور جھاؤ کی لکڑی کا تھا ۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضورۖ کو اس پیالے سے اتنے اتنے مرتبہ پلایا ہے۔

Flag Counter