]٣١٠٤[(٤) ولا بأس بلُبس الملحم اذا کان سداہ ابریسمًا ولُحمتہ قطنا او خزًّا ]٣١٠٥[(٥) ولا یجوز للرجال التحلّی بالذھب والفضة۔
رخص فی لبس الحریر فی الحرب اذا کان لہ عذر ،ج خامس، ص١٥٤، نمبر ٢٤٦٦٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ جنگ میں ریشم پہننا مکروہ ہے۔
]٣١٠٤[(٤)اور کوئی حرج کی بات نہیں ہے ملحم کے پہننے میں جبکہ اس کا تانا ریشم ہو اور بانا سوت یا اون ہو۔
تشریح کپڑے تانے سے نہیں بنتا بلکہ بانے سے بنتا ہے اس لئے اصل اعتبار بانے کا ہے۔پس اگر بانا سوت یا اون کا ہو تو وہ سوت یا اون ہی شمار ہوگا ریشم شمار نہیں ہوگا۔اس لئے تانا چاہے ریشم ہو لیکن بانا اگر اون یا سوت ہے تو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وجہ حدیث میں ہے۔اخبرنی عبد اللہ بن سعید عن ابیہ سعد قال رأیت رجلا ببخاری علی بغلة بیضاء علیہ عمامة خز سوداء فقال کسانیھا رسول اللہ ۖ (الف) دوسری روایت کے اخیر میں ہے۔قال ابوداؤد وعشرون نفسا من اصحاب رسول اللہ ۖ او اکثر لبسوا الخز منھم انس،والبرائ بن عازب (ب) (ابوداؤد شریف، باب ماجاء فی الخز ،ج٢، ص ٢٠٤، نمبر ٤٠٣٨) (٢) اثر میں ہے۔کان لابی بکرة مطرف خز سداہ حریر وکان یلبسہ (ج) (مصنف ابن ابی شیبة ،١ من رخص فی لبس الحریر ، ج خامس، ص ١٤٩،نمبر ٢٤٦١٦) اس حدیث اور اثر سے معلوم ہوا کہ خز یعنی ایسا کپڑا جس میں ریشم اور اورن دونوں ہوں یا ریشم اور سوت دونوں ہوں اس کا پہننا جائز ہے۔اون اور ریشم دونوں کے مجموعی کپڑے کو خز کہتے ہیں۔
لغت سدا : تانا، لحمة : بانا، ابریسم : ریشم، قطن : روئی۔
]٣١٠٥[(٥)اور نہیں جائز ہے مردوں کے لئے سونے اور چاندی کا زیور پہننا۔
تشریح جس طرح عورتوں کے لئے ریشم پہننا جائز ہے اسی طرح ان کے لئے سونے اور چاندی کا زیور پہننا جائز ہے۔ اور جس طرح مرد کے لئے ریشم پہننا حرام ہے اسی طرح ان کے لئے سونے اور چاندی کے زیور پہننا حرام ہے۔ البتہ صرف چاندی کی ایک تولہ انگوٹھی پہننا حلال ہے ۔
وجہ حدیث میں ہے۔ عن ابی موسی اشعری ان رسول اللہ ۖ قال حرم لباس الحریر والذھب علی ذکور امتی واحل لاناثھم(د) (ترمذی شریف، باب ماجاء فی الحریر والذھب للرجال ، ص ٣٠٢، نمبر ١٧٢٠(٢) دوسری حدیث میں ہے۔ سمعت البرء بن عازب یقول نھانا النبی ۖ عن سبع،نھی عن خاتم الذھب او قال حلقة الذھب وعن الحریر والاستبرق،والدیباج والمیثرة الحمراء والقسی وآنیة الفضة (ہ) (بخاری شریف، باب خواتم الذھب ، ص ٨٧١، نمبر ٥٨٦٣
حاشیہ : (پچھلے صفحہ سے آگے) فرمایا اور فرمایا کہ امید رکھے کہ شہادت ہو(الف) حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں نے بخارا میں ایک آدمی کو سفید گدھے پر دیکھا کہ اس پر سوت اور ریشم کا ملاہوا عمامہ تھا،فرمایا مجھ کو حضورۖ نے پہنایا ہے(ب) ابوداؤد فرماتے ہیں کہ حضورۖ کے بیس سے زائد صحابہ کو دیکھا کہ وہ خز یعنی سوت اور ریشم ملا ہوا کپڑا پہنتے تھے،ان میں حضرت انس اور براء بن عازب بھی ہیں (ج) ابو بکرہ کے پاس چادر تھی جس کا تانا ریشم تھا اور وہ اس کو پہنتے تھے(د) آپۖ نے ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مذکر پر حرام فرمایا اور عورتوں کے لئے حلال فرمایا(ہ) ہم کو حضورۖ نے سات چیزوں سے روکا سونے کی انگوٹھی سے یا فرمایا(باقی اگلے صفحہ پر)