Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

154 - 485
کرے۔
مغنیہ  :  کبھی کبھار گیت گا لیا یا شعر کہہ لیا اس سے عدالت ساقط نہیں ہوگی۔ یہاں مغنیہ سے مراد ہے جو گانے کا پیشہ بنا لیا ہو۔ اور ناچ گانے کی دعوت دیتی ہو۔اس کی عدالت ساقط ہوگی کیونکہ ایسا گانا گناہ کبیرہ ہے۔ 
وجہ آیت میں ہے۔ ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مہین (آیت ٦، سورة لقمان٣١) اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے۔ھو اواللہ الغناء (الف)(سنن للبیہقی، باب الرجل یغنی فیتخذ الغناء صناعة یوتی علیہ ویأتی لہ ویکون منسوبا الیہ مشھورا بہ معروفا او المرأة، ج عاشر، ص٣٧٧،نمبر ٢١٠٠٣) اس آیت سے معلوم ہوا کہ گاناحرام ہے(٢) حدیث میں ہے ۔عن عبد اللہ بن مسعود قال قال رسول اللہ ۖ الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل (ب) (سنن للبیہقی، باب الرجل یغنی فیتخذ الغناء صناعة یؤتی علیہ ویأتی لہ الخ ،ج عاشر، ص ٣٧٨، نمبر ٢١٠٠٨ ابوداؤد شریف، باب فی کراہیة الغناء ،ص،نمبر ٤٩٢٧) (٣) ترمذی شریف میں ہے۔عن جابر بن عبد اللہ قال اخذ النبی ۖ بید عبد الرحمن بن عوف ... ولکن عن صوتین احمقین فاجرین صوت عند مصیبة خمش وجوہ وشق جیوب ورنة شیطان (ج) ترمذی شریف، باب ماجاء فی الرخصة فی البکاء علی المیت ،ص ١٩٥، نمبر ١٠٠٥) اس حدیث میں رنة الشیطان سے مراد گانا گانا ہے۔اس لئے یہ گناہ کبیرہ ہے ۔اس کا پیشہ بنانے سے گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
مدمن الشرب  :  جو شراب پیتا ہو اور توبہ کرنے کی نیت نہ ہو اس کو مدمن الشرب شراب میں دھت کہتے ہیں۔ شراب پینا گناہ کبیرہ ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوا لعلکم تفلحون (د) (آیت٩٠، سورة المائدة٥)اس آیت میں شراب پینا حرام قرار دیا گیا ہے (١) حدیث میں ہے۔ عن ابی ھریرة  ان رسول اللہ ۖ قال لایزنی الزانی حین یزنی وھو مؤمن ولا یشرب الخمر حین یشرب وھو مؤمن (ہ) (بخاری شریف، باب الزنا وشرب الخمر، ص ١٠٠١ ،نمبر ٦٧٧٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شراب پینے سے مؤمن باقی نہیں رہتا۔ اس لئے اس کی گواہی مقبول نہیں ہے ۔
اگر شراب پینے سے توبہ کرلے تو اس کی گواہی مقبول ہو گی۔
 وجہ  :  اثر میں ہے ۔عن ابن عمر قال کنت مع عمر بن الخطاب فی حج ... فامر الناس ان یجالسوہ ویوا کلوہ وان تاب فاقبلوا شھادتہ وحملہ واعطاہ مأتی درہم فاخبر عمر ان شھادتہ تسقط بشرب الخمر وانہ اذا تاب حینئذ تقبل شھادتہ (و)(سنن للبیہقی، باب شھادة اہل الاشربة ،ج عاشر، ص٣٦٢، نمبر ٢٠٩٤٨) اس اثر میں ہے کہ شراب پینے سے توبہ کرے تو 

حاشیہ  :   (الف)لوگوں میں سے وہ ہیں جو کھیل کی چیزیں خریدتا ہے تا کہ نادانی میں اللہ کے راستے سے گمراہ کر سکے اور اس کو مذاق کی چیز بنا سکے،ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں خدا کی قسم لہو الحدیث سے گانا مراد ہے(ب) آپۖ نے فرمایا غناء دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔جیسے پانی سبزیوں کو پیدا کرتا ہے(ج) حضورۖ نے فرمایا لیکن میں دو فاجر احمق آوازوں سے روکا گیا ہوں (١) مصیبت کے وقت آواز نکالنا،چہرے پر مارنا،دامن پھاڑنا(٢) شیطان کی گنگناہٹ(د) شراب ،جوا،بت اور قسمت کاتیر ناپاک ہے شیطان کا عمل ہیں۔اس سے پرہیز کیا کرو شاید کہ کامیاب ہو جاؤگے(ہ) آپۖ نے فرمایا زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا اور شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا (و) میں حضرت عمر کے ساتھ حج میں تھا... لوگوں کو حکم دیا کہ شرابی(باقی اگلے صفحہ پر) 

Flag Counter