Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

155 - 485
]٢٨٣٢[(٢٣) ولا من یُغَنِّی للناس ولامن یأتی بابا من الکبائر التی یتعلق بھا الحد ولا من 

اس کی گواہی قابل قبول ہوگی۔
لا من یلعب بالطیور  : پرندوں کو سکھانے اور کھلانے میں کوئی حرج نہیں  ہے۔ اس سے عدالت ساقط نہیں ہوگی۔ یہاں مراد ہے کہ پرندے کے ذریعہ سے بازی لگاتا ہے۔ اس لئے یہ ایک قسم کا جوا ہے۔ اور اوپر آیت میں گزرا کہ جوا حرام ہے۔ یا ایھا الذین آمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (الف) (آیت ٩٠، سورة المائدة ٥) اس آیت میں میسر اور ازلام سے مراد جوا ہے جو حرام ہے (٢) حدیث میں ہے ۔عن عبد اللہ بن عمر ان نبی اللہ ۖ نھی عن الخمر والمیسر والکوبة والغبیراء (ب) (ابوداؤد شریف، باب ماجاء فی السکر ،ص ١٦٢، نمبر ٣٦٨٥) اس حدیث میں المیسر یعنی جوا حرام قرار دیا۔اس لئے پرندے کے ذریعہ جو جوا کھیلتا ہے اس کی گواہی قبول نہیں ہے۔
اصول  یہ مسئلے اس اصول پر ہیں کہ مسلسل گناہ کبیرہ کرنے کی وجہ سے عدات ساقط ہو گئی۔ اور آیت مذکورہ کے اعتبار سے غیر عادل کی گواہی مقبول نہیںہے۔ اس لئے ان لوگوں کی گواہی مقبول نہیں ہوگی۔
لغت  :  مخنث  :  خنثی سے مشتق ہے،جو عورتوں کی طرح حرکت کرے۔نائحة  :  سینہ پیٹ کر رونے والی۔ مدمن  :  شراب میں دھت ہو۔  اللھو  :  کھیل کود۔
]٢٨٣٢[(٢٣)اور نہ اس کی گواہی جو لوگوں کے لئے گاتا ہو،اور نہ اس کی جو ایسے کبیرہ گناہ کرے جس سے حد متعلق ہوتی ہو۔ اور نہ وہ جو بغیر لنگی کے حمام میں داخل ہوتا ہو۔
تشریح  جو لوگوں کے لئے گاتا ہو اس کی گواہی بھی مقبول نہیں ہے۔ 
وجہ  کیونکہ یہ بھی کبیرہ گناہ میں مبتلا ہے۔اس کی دلیل اوپر گزر چکی ہے (٢) یہ حدیث بھی ہے۔ سمعت عبد اللہ یقول سمعت رسول اللہ ۖ یقول ان الغناء ینبت النفاق فی القلب (ج) ابو داؤد شریف، باب فی الغنائ،ص ٣٢٦، نمبر ٤٩٢٧)
 ایسا کبیرہ گناہ کرنے کا عادی ہے جس پر حد ہے،مثلا چوری،ڈاکہ زنی کی تو اس سے حد لازم ہوتی ہے۔اس لئے چور اور ڈاکہ زنوں کی گواہی مقبول نہیں ہے۔ 
وجہ  اس سے عدالت ساقط ہو گئی اور آیت کے اعتبار سے غیر عادل کی گواہی مقبول نہیں ہے۔
لایدخل الحمام بغیر ازار  :  اگر غسل خانہ بند ہو اور ایک آدمی ننگا غسل کرے تو اس سے عدالت ساقط نہیں ہوتی۔ لیکن ایسا غسل خانہ ہو جس میں 

حاشیہ  :  (پچھلے صفحہ سے آگے) کے ساتھ بیٹھو،اس کے ساتھ کھانا کھاؤ ،اگر وہ توبہ کرے تو اس کی گواہی قبول کرو۔اس کو سوارہ دی اور اس کو دوسو درہم دیا ۔ حضرت عمر نے خبر دی کہ شراب پینے سے اس کی گواہی ساقط ہو جاتی ہے۔اوراگر توبہ کرے تو اس وقت اس کی گواہی مقبول ہوگی(الف) اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت کا تیر ناپاک ہیں ،شیطان کا عمل ہے ۔اس سے پریز کرو،شاید کامیاب ہو جاؤگے(ب) آپۖ نے منع کیا شراب سے اور جوئے سے اور شطرنج سے اور چینائی شراب سے(ج)آپۖ نے فرمایا غناء دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔

Flag Counter