Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

153 - 485
مغنیَّة ولا مدمن الشُرب علی اللھو ولا من یلعب بالطیور۔

وجہ  آیت میں ہے۔واشھدوا ذوا عدل منکم واقیموا الشھادة للہ(آیت٢، سورة الطلاق ٦٥) اس آیت سے معلوم ہوا کہ عادل کی گواہی مقبول ہے فاسق کی نہیں۔ اس لئے جو لوگ مسلسل گناہ کرنے کی وجہ سے فاسق ہو گئے اور ابھی بھی اس گناہ کے عادی ہیں اس سے توبہ نہیں کی ہے تو اس کی گواہی مقبول نہیں ہوگی (٢) دوسری آیت میں ہے۔یا ایھا لذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبأ فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین (الف) (آیت ٦، سورة حجرات ٤٩) اس آیت میں ہے کہ فاسق کوئی خبر لائے تو اس پر یقین مت کرو۔اس کی پوری تفتیش کرو کیونکہ فاسق جھوٹ بول سکتا ہے۔ اس لئے اس کی گواہی بھی مقبول نہیں ہے (٣) عادل کی تعریف یہ ہے۔قلت لابرھیم ماالعدل من المسلمین؟ قال الذین لم تظھر لھم ریبة (ب) (مصنف عبد الرزاق، باب لا یقبل منھم ولا جار الی نفسہ ولا ظنین،ج ثامن ، ص ٣١٩، نمبر ٢٥٣٦١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ جو گناہ کرکے مشکوک ہو چکا ہے وہ عادل نہیں رہا۔
مخنث گنہگار ہے اس کی دلیل اس حدیث میں ہے۔عن ابن عباس قال لعن النبیۖ المخنثین من الرجال والمترجلات من النسائ،وقال اخرجوھم من بیوتکم واخرج فلانا واخرج عمرفلانا (ج) (بخاری شریف، باب فی اہل المعاصی والمخنثین ،ص ١٠١٠،نمبر ٦٨٣٤) اس حدیث میں مخنث پر لعنت کی ہے اور اس کو گھروں سے نکالنے کا حکم دیا ہے اس لئے اس کی گواہی کیسے قبول کی جائے گی۔
اور لواطت کرتا ہو اس سے گنہگار ہونے کی دلیل اس حدیث میں ہے۔ عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ۖ من وجدتموہ یعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول بہ (د) (ابو داؤد شریف، باب فیمن عمل عمل قوم لوط،ص ٢٦٥،نمبر ٤٤٦٢ ترمذی شریف، باب ماجاء فی حد اللوطی، ص ٢٧٠، نمبر ١٤٥٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لواطت کرنے والے اور کرانے والے دونوں قتل کر دیئے جائیں۔اس لئے کہ یہ گناہ کبیرہ میں مبتلا ہیں۔ اس لئے یہ فاسق ہوئے اوران کی گواہی مقبول نہیں ہے۔ 
نوٹ   اگر لواطت نہ کرواتا ہو ،صرف عورتوں کی طرح چال ڈھال ہو گئی ہو تو اس کی گواہی مقبول ہے۔کیونکہ وہ گناہ کبیرہ میں مبتلا نہیں ہے۔
نائحہ  :   غم اور مصیبت کی وجہ سے فطری طور پر روئے تو اس سے عدالت ساقط نہیں ہوتی ،اس کی گواہی مقبول ہے۔ یہاں نائحہ سے مراد وہ عورتیں ہیںجوپیشہ ور رونے والی ہو کہ غم وغیرہ کچھ نہیں ہے۔کرایہ پر نوحہ خوانی کرتی ہیں۔ ایسی نوحہ خوانی گناہ کبیرہ ہے۔اس لئے ان کی عدالت ساقط ہو جائے گی۔ اور گواہی مقبول نہیں ہوگی۔ نوحہ حرام ہونے کی دلیل یہ ہے۔ عن ابی سعید الخدری قال لعن رسول اللہ ۖ النائحة والمستمعة (ہ) ( ابو داؤد شریف ، باب فی النوح،ج ٢، ص ١٧٤،نمبر ٣١٢٨ مسلم شریف، باب التشدید فی النیاحة ، ص ٣٠٣، نمبر ٩٣٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوحہ گناہ کبیرہ ہے اس لئے نوحہ کرنے والیوں کی گواہی مقبول نہیں جب تک کہ اس سے توبہ نہ

حاشیہ  :  (الف)اے ایمان والو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی وضاحت طلب کرو۔کیونکہ نادانی میں کسی قوم سے جھگڑ نہ پڑو۔پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہو (ب) میں نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ مسلمانوں کا عدل کیا ہے ؟ فرمایا جس کے بارے میں شک ظاہر نہ ہو (ج) حضرت ابن عباس نے فرمایا آپۖ نے مخنث مرد پر لعنت فرمائی اور جو عورتیں مرد بنتی ہیں ۔اور فرمایا ان کو گھروں سے نکال دو،اور فلاں کو نکالا اور حضرت عمر نے فلاں کو نکالا(د)آپۖ نے فرمایا جس کو قوم لوط کا کام کرتے پاؤ اس کے کرنے والے اور کرانے والے کو قتل کردو (ہ)آپۖ نے لعنت فرمائی نوحہ کرنے والی عورت پر اور اس کو سننے والی پر۔

Flag Counter