]٢٨٢٩[(٢٠) ولا شھادة الشریک لشریکہ فیما ھو من شرکتھما]٢٨٣٠[(٢١) وتُقبل شھادة الرجل لاخیہ وعمہ]٢٨٣١[(٢٢) ولا تُقبل شھادة مخنَّث ولا نائحة ولا
]٢٨٢٩[(٢٠)اور نہ شریک کی گواہی شریک کے لئے جس چیز میں دونوں کی شرکت ہے۔
تشریح جس معاملے میں دونوں کی شرکت ہے اس معاملے میں ایک شریک کی گواہی دوسرے کے لئے مقبول نہیں ہے۔
وجہ یہاں بھی تہمت ہے کہ اپنے ہی ما ل کے لئے رعایت کرکے گواہی دے رہا ہے(٢) حدیث گزری۔عن عمر بن شعیب ان رسول اللہ ۖ رد شھادة الخائن والخائنة (الف) (ابو داؤد شریف، باب من ترد شھادتہ ، ج ٢ ،ص ١٥١،نمبر ٣٦٠٠ ترمذی شریف، باب ماجاء فیمن لا تجوز شھادتہ، ص ٥٥،نمبر ٢٢٩٨) اس حدیث میں ہے کہ خائن مرد اور خائنہ عورت کی گواہی مقبول نہیں ہے۔ اور شریک کے بارے میں شبہ ہو سکتا ہے کہ خیانت کے ساتھ گواہی دے۔اس لئے اس کی گواہی اس مال میں صحیح نہیں جس میں شریک ہے۔ باقی دوسرے معاملے میں شریک کے بارے میں گواہی دے سکتا ہے (٣) اثر بھی گزرا۔ عن ابراہیم قال اربعة لاتجوز شھادتھم... والشریک لشریکہ فی الشیء اذا کان بینھما،واما فیما سوی ذلک فشھادتہ جائزة (ب) (مصنف عبد الرزاق، باب شھادة الاخ لاخیہ،والابن لابیہ،والزوج لامرأتہ،ج ثامن، ص ٣٤٤، نمبر ١٥٤٧٦ مصنف ابن ابی شیبة، ٤٢٥ فی شھادة الولد لوالدہ ،ج رابع، ص ٥٣٢، نمبر ٢٢٨٥١) اس اثر میں ہے کہ شریک کی گواہی شریک کے لئے مال شرکت میں مقبول نہیں ہے۔
اصول ان سب گواہی میں یہ اصول ہے کہ جہاں رعایت کرنے یا خیانت کرنے کا شبہ ہے وہاں گواہی مقبول نہیں ہے۔
]٢٨٣٠[(٢١)اور آدمی کی گواہی اپنے بھائی کے لئے اور چچا کے لئے قبول کی جائے گی۔
وجہ بھائی اور چچا کی کفالت بھائی اور بھتیجے کے ذمے نہیں ہے اس لئے کہ دونوں کی رہائش الگ الگ ہے۔اس لئے قانع اہل بیت نہیں ہوئے۔ اس لئے ان کی گواہی مقبول ہے(٢) اثر میں ہے۔ان شریحا کان یجیز شھادة الاخ لاخیہ اذا کان عدلا (ج) (سنن للبیہقی، باب ماجاء فی شھادة الاخ لاخیہ، ج عاشر، ص ٣٤١،نمبر ٢٠٨٦٧ مصنف عبد الرزاق، باب شھادة الاخ لاخیہ والابن لابیہ والزوج لامرأتہ،ج ثامن،ص ٣٤٣، نمبر ١٥٤٦٦ مصنف ابن ابی شیبة، ٢٢٥ فی شھادة الاخ لاخیہ، ج رابع، ص ٤٣٣، نمبر ٢١٧٨٧) اس اثر سے معلوم ہوا کہ بھائی کی گواہی بھائی کے لئے جائز ہے اور چچا تو اس سے دور کے ہوتے ہیں اس لئے ان کے لئے بھی گواہی جائز ہوگی۔
]٢٨٣١[(٢٢)اور نہیں قبول کی جائے گی گواہی مخنث کی اور نہ رونے والے کی،اور نہ گانے والی کی ،اور نہ لہوولعب کے طور پر ہمیشہ شراب پینے والے کی، اور نہ اس کی جو پرندہ بازی کرے۔
تشریح مخنث کہتے ہیں جو مرد عورت کی طرح کرتا ہو۔اگر اتنا ہی ہو تو اس کی گواہی مقبول ہے لیکن اگر لواطت کرواتا ہو تو اس کی گواہی مقبول نہیں ہے۔کیونکہ وہ اس گناہ کی وجہ سے فاسق ہوگیا۔ اور آیت کی وجہ سے فاسق کی گواہی مقبول نہیں ہے۔
حاشیہ : (الف) آپۖ نے رد کیا خائن کی گواہی کواور خائنہ عورت کی گواہی کو (ب) حضرت ابراہیم نے فرمایا چار آدمیوں کی گواہی جائز نہیں ہے ... شریک کی گواہی شرکت کی چیز میں،بہر حال ان کے علاوہ میںتو اس کی گواہی جائز ہے(ج) حضرت شریح جائز قرار دیتے تھے بھائی کی گواہی کو بھائی کے لے جبکہ عادل ہو۔