]٢٨٢٨[(١٩) ولا شھادة المولی لعبدہ ولا لمکاتبہ۔
لزوجھا والزوج لامرأتہ (مصنف عبد الرزاق،نمبر ١٥٤٧٦ مصنف ابن ابی شیبة، نمبر ٢٨٥١)
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ بیوی شوہر کے لئے اور شوہر بیوی کے لئے گواہی دے سکتے ہیں۔
وجہ اس لئے کہ دونوںحقیقت میں نسبی اعتبار سے الگ الگ ہیں۔اور جو نفقہ ادا کرتا ہے وہ جماع کی مزدوری ہے اس لئے گواہی دے سکتے ہیں (٢) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔سمعت شریحا اجاز لامرأة شھادة ابیھا وزوجھا،فقال لہ الرجل انہ ابوھا وزوجھا ،فقال لہ شریح فمن شھد للمرأة الا ابوھا وزوجھا(الف) (مصنف عبد الرزاق، باب شھادة الاخ لاخیہ والابن لابیہ والزوج لامرأتہ ،ج ثامن ، ص ٣٤٤،نمبر ١٥٤٧٣ مصنف ابن ابی شیبة،٤٢٥ فی شھادة الولد لوالدہ ،ج رابع، ص ٥٣٢، نمبر ٢٢٨٥٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے گواہی دے سکتے ہیں۔
]٢٨٢٨[(١٩)اور آقا کی گواہی اپنے غلام کے لئے اور اپنے مکاتب کے لئے مقبول نہیں ہے۔
وجہ یہاں بھی آقا اپنے غلام کی کفالت کرتا ہے اور مکاتب بھی ابھی غلام کے درجے میں ہے تو گویا یہ قانع لاھل البیت ہو گیا۔اس لئے اس کی گواہی مقبول نہیں(٢) حدیث میں ہے۔ عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ ۖ رد شھادة الخائن والخائنة وذی الغمر علی اخیہ ورد شھادة القانع لاھل البیت واجازھا لغیرھم (ب) (ابو داؤد شریف، باب من ترد شھادتہ ،ص ١٥١، نمبر ٣٦٠٠ ترمذی شریف، باب ماجاء فیمن لا تجوز شھادتہ ، ص ٥٥ ،نمبر ٢٢٩٨) اس حدیث میں ہے کہ جسکی کفالت کرتا ہو اس کی گواہی مقبول نہیں۔ اور غلام اور مکاتب کی آقا کفالت کرتا ہے اسلئے اس کی گواہی مقبول نہیں (٢) اثر میں ہے۔وقال ابن سیرین شھادتہ جائزة الا العبد لسیدہ (ج) (بخاری شریف، باب شھادة الاماء والعبید، ص ٣٦٣،نمبر ٢٦٥٩) (٣) اوپر اثر بھی گزرا۔اربعة لاتجواز شھادتھم ... والعبد لسیدہ والسید لعبدہ(د) (مصنف، عبد الرزاق،نمبر ١٥٤٧٦ مصنف ابن ابی شیبة، نمبر ٢٢٨٥١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ غلام آقا کے لئے اور آقا غلام کے لئے گواہی نہیں دے سکتے(٤) یوں بھی غلام کا مال آقا کا مال ہے اس لئے گویا کہ اپنے مال ہی کے لئے گواہی دیتا ہے اس لئے جائز نہیں ۔اور مکاتب غلام کے درجے میں ہے اس لئے اس کی گواہی بھی مقبول نہیں ہے (٢) اثر میں ہے۔ قال ابراھیم اذا کان یسعی فھو منزلة العبد یقول لا تجوز شھادتہ (ہ) (مصنف عبد الرزاق، باب شھادة المکاتب والذی یسعی، ج ثامن ، ص ٣٤٥، نمبر ١٥٤٧٩١٥٤٧٨)
حاشیہ : (الف) حضرت شریح نے عورت کے لئے اس کے باپ اور شوہر کی گواہی جائز قرار دی۔ پس لوگوں نے کہا یہ اس کے باپ اور اس کے شوہر ہیں۔ حضرت شریح نے فرمایا عورت کے لئے کون گواہی دے گاسوائے اس کے باپ اور شوہر کے؟(ب) حضورۖ نے رد کیا خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی گواہی کو۔اور بھائی سے کینہ رکھنے والے کی گاہی کو۔اور رد کیا نوکر کی گواہی اور ان کے علاوہ کی اجازت دی (ج) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ گواہی جائز ہے مگر غلام کی آقا کے لئے جائز نہیں (د) چار کی گواہی جائز نہیں... غلام کی آقا کے لئے اور آقا کی اپنے غلام کے لئے (ہ) حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اگر غلام سعایت کر رہا ہو تو وہ بھی غلام کی طرح ہے اس کی گواہی جائز نہیں ہے۔