]٢٨٢٦[(١٧) ولا شھادة الوالد لولدہ وولدولدہ ولا شھادة الولد لابویہ واجدادہ ]٢٨٢٧[ (١٨) ولا تُقبل شھادة احدی الزوجین للآخر۔
]٢٨٢٦[(١٧) اور نہ والد کی گواہی اپنے بیٹے کے لئے اور نہ اپنے پوتے کے لئے ،اور نہ بچے کی گواہی اپنے والدین کے لئے اور اپنے دادا کے لئے۔
تشریح والد اور والدہ کی گواہی اپنے بیٹے اور پوتے کے لئے مقبول نہیں ہے۔اسی طرح لڑکا یا لڑکی اپنے والدین کے لئے یا اپنے دادا دادی کے لئے دے تو قبول نہیں کی جائے گی۔
وجہ لڑکا اپنے باپ، دادا کی گواہی دے یا باپ،دادا بیٹے یا پوتے کی گواہی دے تو اس میں رعایت کرنے کی تہمت ہے اس لئے ان لوگوں کی گواہی مقبول نہیں ہے(٢) حدیث میں ہے۔عن عائشة قالت قال رسول اللہ ۖ لا تجوز شھادة خائن ... ولا القانع اھل البیت لھم ولا ظنین فی ولاء ولا قرابة،قال الفزاری القانع التابع (الف) (ترمذی شریف، باب ماجاء فیمن لا تجوز شھادتہ ،ج ٢، ص ٥٥ ،نمبر ٢٢٩٨) اس حدیث میں ہے کہ قرابت والوں کی گواہی مقبول نہیں۔اور لوگوں کی آپس میں قرابت ہے اس لئے ان کی گواہی مقبول نہیں ہے۔ پھر حدیث میں یہ بھی ہے کہ گھر کے قانع یعنی گھر والے جس کی کفالت کرتے ہوں اس کی گواہی مقبول نہیں ہے۔ اور باپ بیٹے کی کفالت کرتا ہے ۔اسی طرح بوڑھاپے میں بیٹا باپ کی کفالت کرتا ہے اس لئے ان کی گواہی بھی مقبول نہیں ہے(٣) اثر میں ہے۔ عن ابراہیم قال اربعة لا تجوز شھادتھم الوالد لولدہ،والولد لوالدہ ،والمرأة لزوجھا، والزوج لامرأتہ، والعبد لسیدہ،والسید لعبدہ،والشریک لشریکہ فی الشیء اذا کان بینھما ،واما فیما سوی ذلک فشھادتہ جائزة (ب) (مصنف عبد الرزاق، باب شھادة الاخ لاخیہ والابن لابیہ والزوج لامرأتہ،ج ثامن ، ص ٣٤٤،نمبر ١٥٤٧٦ مصنف ابن ابی شیبة،٤٢٥ فی شھادة الولد لوالدہ ،ج رابع ، ص ٥٣٢،نمبر ٢٢٨٥١) اس اثر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ باپ کی گواہی بیٹے کے لئے اور بیٹے کی گواہی باپ دادا کے لئے مقبول نہیں ہے۔
]٢٨٢٧[(١٨)اور نہیں قبول کی جائے گی میاں بیوی میں سے ایک کی گواہی دوسرے کے لئے۔
تشریح بیوی شوہر کے لئے گواہی دے یا شوہر بیوی کے لئے گواہی دے تو قبول نہیں کی جائے گی۔
وجہ (١) یہاں بھی تعلق ہے اس لئے شبہ ہوگا کہ حمایت میں گواہی دے رہا ہے اس لئے مقبول نہیں ہے(٢) اوپر ترمذی شریف کی حدیث گزری جس میں تھا 'ولا قرابة 'کہ قریب خاص کی گواہی مقبول نہیں ہے۔اس لئے بھی مقبول نہیں ہوگی (٣) اور یہ اثر بھی گزرا۔والمرأة
حاشیہ : (الف) آپۖ نے فرمایا خیانت کرنے والے کی گواہی جائز نہیں...نہ گھر کے غلام کی اور نہ ولاء میں شریک کی اور نہ قرابت والوں کی۔حضرت فزاری نے فرمایا قانع سے مراد نوکر اورر تابع ہے(ب)حضرت ابراہیم نے فرمایا چار آدمیوں کی گواہی جائز نہیں ہے۔ والد کی اپنے بچوں کے لئے،اور بچے کی والد کی لئے، عورت کی شوہر کے لئے،اور شوہر کی بیوی کے لئے،اور غلام اپنے آقا کے لئے،اور آقا کی اپنے غلام کے لئے،اور شریک کی شریک کے لئے جس مال میں دونوں شریک ہیں۔بہر حال ان کے علاوہ تو اس کی شھادت جائز ہے۔