تشریح کسی آدمی نے کسی عورت پر زنا کی تہمت لگائی اور گواہ نہ لا سکا جس کی وجہ سے اس پر حد قذف لگ گئی۔ اب وہ توبہ بھی کرے تب بھی اس کی گواہی مقبول نہیں ہے۔
وجہ آیت میں ہے کہ کبھی بھی اس کی گواہی مقبول نہیں ہوگی۔والذین یرمون المحصنات ثم لم یأتوا باربعة شھداء فاجلدوھم ثمانین جلدة ولا تقبلوا لھم شھادة ابدا واولئک ھم الفاسقونo الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفور الرحیم (الف) (آیت ٥٤،سورة النور ٢٤) اس آیت میں ہے کہ محدود فی القذف کی گواہی کبھی بھی قبول نہ کرو (٢) حدیث میں ہے۔عن عائشة قالت :قال رسول اللہ لاتجوز شھادة خائن ولا خائنة ولا مجلود حدا ولا مجلودة ولا ذی غمر لاحنة(ب) (ترمذی شریف، باب ماجاء فیمن لا تجوز شھادتہ، ج ٢،ص ٥٥، نمبر ٢٢٩٨ سنن للبیہقی، باب من قال لا تقبل شھادتہ ،ج عاشر، ص ٢٦١، نمبر ٢٠٥٦٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حد لگے ہوئے کی گواہی مقبول نہیں ہے۔اور توبہ کرے یعنی اپنے آپ کو تہمت لگانے میں جھٹلائے پھر بھی گواہی مقبول نہیں اس کی دلیل یہ اثر ہے۔ انبأ یونس عن الحسن قالا :لاتقبل شھادتہ ابدا وتوبتہ فیما بینہ وبین ربہ (ج) (سنن للبیہقی، باب من قال لا تقبل شھادتہ، ج عاشر ، ص ٣٦٢، نمبر ٢٠٥٧٤ مصنف ابن ابی شیبة ،٧٤من قال لا تجوز شہادتہ اذا تاب،ج رابع، ص ٣٣٠، نمبر ٢٦٠٥١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ توبہ کرنے کے بعد بھی اس کی گواہی مقبول نہیں ہے۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ قاذف توبہ کرلے یعنی یوں کہے کہ میں نے فلاں عورت پر زنا کی غلط تہمت لگائی تھی تو اب اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔
وجہ آیت مذکورہ میں الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا فان اللہ غفور رحیم(آیت ٥، سورة النور٢٤) میں ہے کہ اگر توبہ کر لے تو اللہ معاف فرما دیںگے۔ یعنی گواہی کے قابل ہو جائے گا(٢) بخاری شریف میں آگے یوں ہے۔وجلد عمر ابا بکرة وشبل بن معبد ونافعا بقذف المغیرة ثم استتابھم وقال من تاب قبلت شھادتہ،واجاز عبد اللہ بن عتبة وعمر بن عبد العزیز ... وقال الشعبی وقتادة اذا اکذب نفسہ جلد وقبلت شھادتہ (د) (بخاری شریف، باب شھادة القاذف والسارق والزانی،ص ٣٦١، نمبر ٢٦٤٨ سنن للبیہقی، باب شھادة القاذف،ج عاشر، ص ٢٥٦،نمبر ١٢٠٥٤٥ مصنف عبد الرزاق، باب شھادة القاذف، ج ثامن ، ص ٣٦٢،نمبر ١٥٥٤٦)اس اثر سے معلوم ہوا کہ توبہ کرنے کے بعد اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔
حاشیہ : (الف)جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت ڈالتے ہیںپھر چار گواہ نہیں لاسکتے تو ان کو اسی کوڑے مارو۔اور ان کی کبھی بھی گواہی قبول نہ کرو وہ لوگ فاسق ہیں۔ مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیاور اصلاح کرلے تو اللہ معاف کرنے والے ہیں(ب)آپۖ نے فرمایا خیانت کرنے والے مرد،خیانت کرنے والی عورت کی گواہی جائز نہیں ہے۔اور نہ حد لگے ہوئے مرد اور نہ حد لگی ہوئی عورت اور نہ کینے والے کی گواہی جائز ہے(ج) حضرت حسن نے فرمایا محدود کی گواہی کبھی بھی قبول نہیں ہے اور اس کی توبہ اس کے رب کے ساتھ ہے (د) حضرت عمر نے ابوبکرہ، شبل بن معبد اور نافع کو مغیرہ پر تہمت کی وجہ سے حد لگائی پھر ان سے توبہ کے لئے کہااور فرمایا جو توبہ کرے گا اس کی گواہی قبول ہوگی۔اور عبد اللہ بن عتبہ اور عمر بن عبد العزیز نے اس کی گواہی کی اجازت دی۔حضرت شعبی نے فرمایا اگر اپنے آپ کو جھٹلائے اور حد لگ جائے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔