]٢٨٢٤[(١٥) ولا المملوک]٢٨٢٥[(١٦) ولا المحدود فی قذف وان تاب۔
قال ذکر عند رسول اللہ ۖ الرجل یشھد بشھادة فقال: اما انت یا ابن عباس! فلا تشھد الا علی امر یضیٔ لک کضیاء ھذہ الشمس وأومی رسول اللہ ۖ بیدہ الی الشمس (الف) (سنن للبیہقی، باب التحفظ فی الشھادة والعلم بھا،ج عاشر ، ص ٢٦٣، نمبر ٢٠٥٧٩) اور نابینا کے سامنے سورج کی روشنی کی طرح واضح نہیں ہوگا اس لئے وہ گواہی نہیں دے سکتا۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ گواہ کی چیز دیکھتے وقت دیکھنے والا ہو چاہے گواہی دیتے وقت نابینا ہوتو مقبول ہے۔ وقال الشعبی تجوز شھادتہ اذا کان عاقلا، وقال الزھری ارأیت ابن عباس لو شھد علی شھادة اکنت تردہ؟ (ب) (بخاری شریف، باب شھادة الاعمی ونکاحہ وامرہ وانکاحہ ومبایعتہ وقبولہ فی التاذین وغیرہ وما یعرف بالاصوات،ص ٣٦٣،نمبر ٢٦٥٥ مصنف عبد الرزاق ، باب شھادة الاعمی، ج ثامن ، ص ٣٢٣، نمبر ١٥٣٧٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ نابینا کی گواہی جائز ہے۔
]٢٨٢٤[(١٥)مملوک کی گواہی مقبول نہیں ہے۔
وجہ اثر میں ہے ۔فقال واللہ عزوجل یقول واستشھدوا شھیدین من رجالکم (آیت٢٨٢، سورة البقرة) افتجوز شھادة العبید فبین مجاہد ان مطلق الخطاب یتناول الاحرار۔دوسری روایت میں ہے۔عن علی والحسن والنخعی والزھری ومجاھد وعطاء لاتجوز شھادة العبید (ج) (سنن للبیہقی، باب من رد شھادة العبید ومن قبلھا،ج عاشر، ص ٢٧٢، نمبر ٢٠٦٠٨ مصنف عبد الرزاق، باب شھادة العبد یعتق والنصرانی یسلم والصبی یبلغ،ج ثامن ، ص ٣٤٦،نمر ١٥٤٨٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ غلام اور باندی کی گواہی مقبول نہیں ہے۔
فائدہ بعض اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ غلام کی گواہی مقبول ہے۔
وجہ اثر میں ہے۔وقال انس شھادة العبد جائزة اذا کان عدلا ،واجازہ شریح وزرارة ابن اوفی وقال ابن سیرین شھادتہ جائزة الا العبد لسیدہ (د) (بخاری شریف، باب شھادة الاماء والعبید ، ص ٣٦٣، نمبر ٢٦٥٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ مملوک کی گواہی جائز ہے۔
]٢٨٢٥[(١٦) اور تہمت میں حد لگائے ہوئے کی گواہی مقبول نہیں ہے اگرچہ توبہ کر چکا ہو۔
حاشیہ : (الف) حضورۖ کے سامنے ایک آدمی کا تذکرہ ہوا کہ وہ گواہی دیتا رہتا ہے۔ تو آپۖ نے فرمایا تم اے ابن عباس ١ گواہی مت دویہاں تک کہ معاملہ اس سورج کی طرح روشن ہوجائے۔اور حضورۖ نے اپنے ہاتھ سے سورج کی طرف اشارہ کیا(ب) حضرت شعبی نے فرمایا نابینا کی گواہی جائز ہے اگر سمجھدار ہوتو۔حضرت زہری نے فرمایا تمہاری کیا رائے ہے اگر ابن عباس گواہی دے تو کیا تم اس کو رد کر دوگے؟(ج) اللہ تعالی کا قول تمہارے مردوں کی گواہی لوتو پوچھا کیا غلام کی گواہی جائز ہے؟ تو حضرت مجاہد نے بیان کیا کہ قرآن میں مطلق خطاب آزاد کو شامل ہے یعنی غلام کی گواہی جائز نہیں ہے۔دوسری روایت میں ہے حضرت علی، حضرت حسن، حضرت نخعی، حضرت زہری، حضرت مجاہد اور حضرت عطاء غلام کی گواہی جائز قرار نہیں دیتے تھے(د) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ غلام کی گواہی جائز ہے مگر غلام اپنے آقاکے لئے گواہی دے تو جائز نہیں ہے۔