Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

147 - 485
سمعہ یُشھد الشاھد علی شھادتہ لم یسع للسامع ان یشھد علی ذلک]٢٨٢٢[(١٣) ولا یحل للشاھد اذا رأی خطہ ان یشھد الا ان یذکر الشھادة]٢٨٢٣[(١٤) ولا تُقبل شھادة الاعمٰی۔

اثر میں اس کا ثبوت ہے۔عن شریح قال تجوز شھادة الرجل علی الرجل فی الحقوق ،ویقول شریح للشاھد قل اشھدنی ذو عدل (الف) (مصنف عبد الرزاق، باب شھادة الرجل علی الرجل ،ج ثامن ، ص ٣٣٨، نمبر ١٥٤٤٧) اس اثر میں ہے کہ یوں کہو کہ مجھ کو عادل آدمی نے گواہ بنایا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ گواہ بنائے تب بن سکتا ہے۔
]٢٨٢٢[(١٣) اور نہیں حلال ہے گواہ کے لئے اگر وہ اپنا خط دیکھے یہ کہ گواہی دے مگر یہ کہ گواہی یاد ہو۔
تشریح   ایک آدمی نے اپنا خط دیکھا جس میں گواہی لکھی ہوئی تھی لیکن گواہی کا پورا واقعہ یاد نہیں ہے تو صرف خط دیکھ کر گواہی دینا جائز نہیں ہے۔ ہاں پورا واقعہ یاد آ جائے تو اب وہ گواہی دے سکتا ہے۔ 
وجہ  خط خط کے مشابہ ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کسی اور نے خط لکھا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ یہ میرا خط ہے۔اس لئے گواہی یاد ہوئے بغیر خط دیکھ کر گواہی نہ دے(٢) اثر میں ہے۔ قال سألت الشعبی قلت یشھدنی الرجل علی الرجل بالشھادة فاوتی بکتاب یشبہ کتابی و خاتم یشبہ خاتمی ولا اذکر فقال الشعبی لا تشھد حتی تذکر(ب) (مصنف عبد الرزاق ، باب الشاھد یعرف کتابہ ولا یذکرہ ،ج ثامن ، ص ٣٥٤، نمبر ١٥٥١٧سنن للبیہقی، باب وجوہ العلم بالشھادة، ج عاشر ، ص ٢٦٦، نمبر ٢٠٥٨٨)اس اثر سے معلوم ہوا کہ جب تک واقعہ یاد نہ آئے تو خط دیکھ کر گواہی نہ دے۔
]٢٨٢٣[(١٤)اور اندھے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
تشریح  شہادت شاہد سے مشتق ہے یعنی دیکھ کر گواہی دینا اس لئے جن باتوں میں دیکھ کر گواہی دینا ہوتا ہے اس میں نابینا کی گواہی مقبول نہیں ہے۔ البتہ جن باتوں میں صرف سن کر گواہی دینا ہوتا ہے ان میں امام ابو یوسف کی رائے یہ ہے کہ نابینا کی گواہی مقبول ہے۔ 
وجہ  اثر میں ہے۔ حدثنا الاسود بن قیس العنزی سمع قومہ یقولون،ان علیا رد شھادة اعمی فی سرقة لم یجزھا (ج) (سنن للبیہقی، باب وجوہ العلم بالشھادة ،ج عاشر، ص ٢٦٦، نمبر ٢٠٥٨٦ مصنف عبد الرزاق، باب شھادة الاعمی، ج ثامن ، ص ٣٢٤، نمبر ١٥٣٨٠) اس اثر سے معلوم ہوا کہ نابینا کی گواہی مقبول نہیں ہے(٣) حدیث میں ہے کہ سورج کی طرح روشن ہو جائے تب گواہی دو اور نابینا دیکھ نہیں سکتا اس لئے اس کے سامنے سورج کی طرح روشن نہیں ہوگا۔ اس لئے وہ گواہی بھی نہیں دے سکتا۔ حدیث یہ ہے۔ عن ابن عباس 

حاشیہ  :  (الف) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ کسی آدمی کی گواہی پر گواہی دینا جائز ہے حقوق میں، چنانچہ حضرت شریح گواہوں سے کہتے تھے،کہو مجھ کو عادل نے گواہ بنایا ہے(ب)میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کوئی آدمی کسی آدمی کی گواہی پر گواہ بناتا ہے ۔پس وہ ایک خط لاتا ہے جو میری تحریر کے مشابہ ہے،اور مہر لاتا ہے جو میرے مہر کے مشابہ ہے۔اور مجھے یاد نہیں ہے کہ وہ میری تحریر ہے تو حضرت شعبی نے فرمایا گواہی مت دو جب تک کہ یاد نہ آئے(ج)حضرت اسود نے اپنی قوم کو کہتے ہوئے سناکہ حضرت علی نے نابینا کی ایک چوری کے بارے میں گواہی رد کی،اس کو جائز قرار نہیں دیا۔ 

Flag Counter