ما یثبت حکمہ بنفسہ مثل البیع والاقرار والغصب والقتل وحکم الحاکم فاذا سمع ذلک الشاھد او راٰہ وسعہ ان یشھد بہ وان لم یشھد علیہ ویقول اشھد انہ باع ولا یقول اشھدنی]٢٨٢١[(١٢) ومنہ مالا یثبت حکمہ بنفسہ مثل الشھادة علی الشھادة فاذا سمع شاھدا یشھد بشیء لم یجز لہ ان یشھد علی شھادتہ الا ان یُشھدہ وکذلک لو
آپ جاکر میری گواہی پیش کریں۔ اس کو شہادت علی الشھادة کہتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی نے گواہ تو نہیں بنایا لیکن کوئی کام ہوتے ہوئے دیکھا تو یہ خود بخود گواہ بن گیا۔ اب اس کے لئے گنجائش ہے کہ اس بات کی گواہی دے۔ اب یہ اصل گواہ ہوا۔ مثلا کسی کو کوئی چیز بیچتے ہوئے دیکھا تو گواہی دے سکتا ہے کہ فلاں نے فلاں چیز فلاں سے بیچی ہے۔ میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ البتہ یہ نہ کہے کہ مجھے گواہ بنایا ہے۔ کیونکہ واقعی اس کو کسی نے گواہ بنایا نہیں ہے بلکہ خود بخود بنا ہے۔
وجہ آیت میں اس کا اشارہ ہے۔ ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعة الا من شھد بالحق وھم یعلمون(الف)(آیت ٨٦، سرة الزخرف٤٣) اس آیت میں ہے کہ حق کو دیکھا اور جانتا ہو تو شفاعت کا مالک ہے (٢) ایک حدیث میں ہے۔عن ابن عباس قال ذکر عند رسول اللہ ۖ الرجل یشھد بشھادة فقال اما انت یا ابن عباس فلا تشھد الا علی امر یضیء لک کضیاء ھذہ الشمس وأومی رسول اللہ ۖ بیدہ الی الشمس (ب) (سنن للبیہقی، باب التحفظ فی الشھادة والعلم بھا ،ج عاشر، ص ٢٦٣، نمبر ٢٠٥٧٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورج کی طرح بات روشن ہو جائے تو گواہی دے سکتا ہے۔
]٢٨٢١[(١٢) ان میں سے وہ گواہی ہے کہ اس کا حکم خود ثابت نہیں ہوتا۔مثلا گواہی پر گواہی دینا۔ پس اگر کوئی شاہد سنے کسی چیز کی گواہی دیتے ہوئے تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کی گواہی کی گواہی دے مگر یہ کہ اس کو گواہ بنائے۔ ایسے ہی اگر سنا کہ گواہ بنا رہا ہے کسی کی گواہی پر تو سننے والے کے لئے گنجائش نہیں ہے کہ اس پر گواہی دے۔
تشریح کسی گواہ کی گواہی پر گواہ بننے کے لئے ضروری ہے کہ اصل گواہ فرع گواہ کو اپنی گواہی پر گواہ بنائے۔تب اس کی گواہی قاضی کی مجلس میں منتقل کر سکتا ہے۔ اس کے بغیر نہیں۔ چنانچہ کسی کو گواہ بناتے سنا تو سننے والے کے لئے گنجائش نہیں کہ وہ قاضی کی مجلس میں گواہی دیدے۔ یا کسی کو دیکھا کہ وہ گواہی دے رہا ہے تو دیکھنے والے کے لئے گنجائش نہیں ہے کہ وہ اس کی گواہی قاضی کی مجلس میں منتقل کرے جب تک کہ اصل گواہ فرع گواہ کو با ضابطہ اپنی گواہی کا گواہ نہ بنائے۔
وجہ فرع گواہ اصل گواہ کا گویا کہ وکیل ہے۔اور مؤکل کے بغیر بنائے وکیل نہیں بنتا اس لئے اصل گواہ کے بغیر فرع گواہ گواہ نہیں بن سکتا(٢)
حاشیہ : (الف) جو اللہ کے علاوہ کسی کو پکارتے ہیں وہ شفاعت کے لائق نہیں ہے۔ مگر جو حق کی گواہی دے اور جانتا ہو (ب) حضورۖ کے سامنے ایک آدمی کا تذکرہ ہوا کہ وہ گواہی دیتا ہے۔ تو آپۖ نے فرمایا اے ابن عباس ! تم کسی معاملے پر اس وقت تک گواہی نہ دینا جب اس سورج کی روشنی کی طرح واضح نہ ہو جائے۔اور حضورۖ نے اپنے ہاتھ سے سورج کی طرف اشارہ فرمایا۔