فیھم یسأل عنھم]٢٨١٩[(١٠) وقال ابو یوسف و محمد رحمھما اللہ تعالی لا بد ان یسأل عنھم فی السر والعلانیة]٢٨٢٠[(١١) وما یتحمّلہ الشاھد علی ضربین احدھما
کے بارے میں تفتیش کی ہے (٢) ایک حدیث میں آپۖ نے حضرت ماعز کے متعلق اس کی قوم سے بھی پوچھا ہے۔ عن ابن عباس ... فاعرض عنہ فسأل قومہ أمجنون ھو؟ قالوا لیس بہ بأس (الف)(ابوداؤد شریف، باب رجم ماعز بن مالک ،ص ٢٦٠، نمبر ٤٤٢١) اس حدیث میں حضرت ماعز کے متعلق اس کی قوم سے بھی پوچھا ہے ۔جس سے معلوم ہوا کہ حدود و قصاص میں سر اور علانیہ تزکیہ کی جائے گی ۔
]٢٨١٩[(١٠)امام ابو یوسف اور امام محمد فرماتے ہیں ضروری ہے کہ گواہوں کے بارے میں سر اور علانیہ کے طور پر تفتیش کرے۔
تشریح صاحبین کی رائے ہے کہ عام معاملات میں بھی گواہوں کی عدالت کی تحقیق درپردہ بھی کرے اور علانیہ بھی کرے۔
وجہ وہ فرماتے ہیں کہ معاملات میں گواہی کی عدالت شرط ہے۔اور زمانہ ایسا ہے کہ تفتیش کئے بغیر عدالت کا پتا چلنا مشکل ہے اس لئے تفتیش کرے (٢) حضورۖ نے حضرت عائشہ کے بارے میں بھی تفتیش کی تھی۔ لمبی حدیث افک کا ٹکڑا یہ ہے۔عن عائشة زوج النبی ۖ حین قال لھا اہل الافک ... فقال یا زینب ماعلمت مارأیت ؟ فقالت یا رسول اللہ ! اللہ احمی سمعی وبصری ، واللہ ما علمت علیھا الا خیرا (ب) (بخاری شریف، تعدیل النساء بعضھن بعضا ،ص ٣٦٣، نمبر ٢٦٦١) (٣) اثر میں ہے۔ وقال ابو جمیلة وجدت منبوذا فلما رأنی عمر قال عسی الغویرابوسا کانہ یتھمنی، قال عریفی،انہ رجل صالح قال کذلک، اذھب وعلینا نفقتہ (ج) (بخاری شریف، اذا ذکی رجل رجلا کفاہ، ص ٣٦٦، نمبر ٢٦٦٢) اس حدیث اور اثر میں عام معاملات میں تزکیہ اور تفتیش کی گئی ہے۔ اس لئے عام معاملات میں بھی گواہوں کی تفتیش کرے۔
نوٹ صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ حضرت امام ابو حنیفہ کے زمانے میں لوگ اچھے ہوتے تھے اس لئے عام معاملات میں گواہوں کے تزکیہ کی ضرورت نہیں سمجھی ۔اور صاحبین کے زمانے میں لوگ کچھ غیر ذمہ دار ہو گئے تھے اس لئے تزکیہ کی ضرورت سمجھی گئی۔اور اس وقت انہیں کے قول پر فتوی ہے۔
]٢٨٢٠[(١١)گواہ جس گواہی کا تحمل کرتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ان میں سے ایک وہ جس کا حکم ثابت ہوتا ہے خود ہی۔جیسے خریدو فروخت،اقرار، غصب،قتل، حاکم کا فیصلہ، پس گواہ چیزوں کو سنے یا ان کو دیکھے تو اس کے لئے گنجائش ہے کہ ان کی گواہی دے۔ چاہے ان پر گواہ نہ بنایا ہو۔ اور یوں کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس نے بیچا ہے۔یوں نہ کہے کہ مجھ کو گواہ بنایا ہے۔
تشریح گواہ بننے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ کوئی گواہ اپنی گواہی پر گواہ بنائے اور کہے کہ میں تو مجلس قضا میں نہیں جا سکوں گا اب
حاشیہ : (الف) آپۖ نے حضرت ماعز سے اعراض کیا پھر اس کی قوم سے پوچھا کیا یہ مجنون ہے ؟ لوگوں نے کہا اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے(ب) حضرت عائشہ کو جب تہمت لگانے والوں نے تہمت لگائی ... آپۖ نے پوچھا زینب تمہاری کیا رائے ہے؟ فرمایا یا رسول اللہ ! اپنے کان اور نگاہ کی حفاظت کرتی ہوں ۔اس کے بارے میں خیر کے علاوہ نہیں جانتی ہوں(ج) ابو جمیلہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی پھینکا ہوا بچہ پایا۔پس جب مجھے عمر نے دیکھا تو فرمایا ایسا لگتا ہے کہ غویر مسکین ہوگیا۔گویا کہ وہ مجھے متہم کر رہے تھے۔تو میرے سردار نے کہا کہ یہ نیک آدمی ہے۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا ایسا ہی ہے۔ جاؤ! اس کا نفقہ میرے ذمے ہے۔