اتیقّن لم تُقبل شھادتہ]٢٨١٨[(٩) وقال ابو حنیفة رحمہ اللہ تعالی یقتصر الحاکم علی ظاھر عدالة المسلم الا فی الحدود والقصاص فانہ یسأل عن الشھود وان طعن الخصم
اثنان ذوا عدل منکم (الف) (آیت ١٠٦، سورة المائدة٥) ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ گواہ عادل ہوں۔
لفظ شہادت کی ضرورت اس لئے ہے کہ اس میں ایک قسم کی تاکید ہے۔ اس لئے گواہ گواہی دیتے وقت شہادت کا لفظ استعمال کرے (٢) گوہی کی تمام آیتوں میں شہادت کا لفظ استعمال ہوا ہے اس لئے بھی شہادت کا لفظ چاہئے۔ اس کے لئے دو آیتیں تو پہلے گزر گئیں۔ اور استشھدوا شھیدین من رجالکم،اسی آیت میں ہے واشھدوا اذا تبایعتم(آیت ٢٨٢، سورة البقرة٢) ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ گواہی دیتے وقت لفظ شہادت استعمال کرے۔ چنانچہ اعلم یا اتیقن کہے توگواہی مقبول نہیں ہوگی۔ عادل کس کو کہتے ہیں اس کی تفصیل آگے آئے گی۔
]٢٨١٨[(٩)اور امام ابو حنیفة نے فرمایا حاکم اکتفا کرے گا مسلمان کی ظاہری عدالت پر مگر حدود اور قصاص میں ۔ اس لئے کہ حدود میں تفتیش کریںگے گواہوں کے بارے میں، اور اگر طعن کیا مدعی علیہ نے گواہوں میں تو ان کے بارے میں تفتیش کریںگے۔
تشریح امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ حدود اور قصاص کے علاوہ عام معاملات میں گواہوں کی عدالت کی تفتیش زیادہ نہیں کریںگے۔ بلکہ ظاہری طور پر عادل معلوم ہوتے ہوں تو اسی پر اکتفا کریںگے اور فیصلہ کر دیا جائے گا۔ ہاں مدعی علیہ گواہوں کی عدالت پر طعن کرے تو پھر گواہوں کی تفتیش کی جائے گی۔ البتہ حدودوقصاص کے گواہوں کی پوری جانچ ہوگی۔اور پوشیدہ اور ظاہری طور پر اس کی عدالت کی تحقیق کی جائے گی تاکہ مجرم کی جان ضائع نہ جائے یا اس کا عضو ضائع نہ جائے۔
وجہ وہ فرماتے ہیں کہ مسلمان ظاہری طور پر عادل ہیں جب تک کہ اس میں طعن نہ کرے۔ اس لئے ظاہری عدالت پر اکتفا کیا جائے گا (٢) حدیث میں ہے ۔عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ ۖ المسلمون عدول بعضھم علی بعض الا محدودا فی فریة(ب)(مصنف ابن ابی شیبة، ٧٤ من قال لا تجوز شھادتہ اذا تاب ،ج رابع ، ص ٣٣٠،نمبر٢٠٦٥٠ دار قطنی ، کتاب عمر الی ابی موسی اشعری ،ج رابع، ص ١٣٢،نمبر ٤٤٢٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان عادل ہیںمگر حد قذف میں ۔ اس لئے ظاہری عدالت پر اکتفا کیا جائے گا۔ ہاں مدعی علیہ طعن کرے تو تفتیش کی جائے گی۔
حدود اور قصاص میں گواہوں کی تفتیش کی جائے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ جان ضائع نہ ہو(٢) حضورۖ نے حضرت ماعز سے اس کی عدالت کے بارے میں تحقیق کی۔ حدیث کا ٹکڑا یہ ہے۔ ان ابا ھریرة قال ... دعاہ النبی ۖ فقال ابک جنون ؟ قال لا یا رسول اللہ! فقال احصنت؟ قال نعم یا رسول اللہ ! قال اذھبوا فارجموہ (ج) ( بخاری شریف، باب سوال الامام المقر ھل احصنت ؟ ،ص ١٠٠٨، نمبر ٦٨٢٥ ابوداؤد شریف، باب رجم ماعز بن مالک ، ص ٢٦٠،نمبر ٤٤٣٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپۖ نے حدود میں عادل ہونے
حاشیہ : (الف) اے ایمان والو! تمہارے درمیان گواہی یہ ہے کہ تم میں سے کسی ایک کو موت آئے وصیت کے وقت تم میں سے دو عادل آدمی ہوں۔ یعنی وصیت کے وقت عادل آدمی کی گواہی لیں(ب) آپۖ نے فرمایا مسلمان بعض بعض پر عادل ہیں مگر زنا کی تہمت میں جس کو حد لگ چکی ہو وہ عادل نہیں(ج) آپۖ نے حضرت ماعز کو بلایا اور پوچھا کیا تم کو جنون ہے ؟ فرمایا نہیں یا رسول اللہ ! پھر پوچھا کیا تم محصن ہو؟ کہا ہاں یا رسول اللہ ! آپۖ نے فرمایا جاؤ ان کو رجم کرو۔