بالنساء فی موضع لایطلع علیہ الرجال شھادة امرأة واحدة]٢٨١٧[(٨) ولا بد فی ذلک کلہ من العدالة ولفظ الشھادة فان لم یذکر الشاھد لفظة الشھادة وقال اعلم او
ارضعتکما؟ فنھاہ عنھا (الف) (بخاری شریف، باب شھادة الاماء والعبید ،ص ٣٦٣،نمبر ٢٦٥٩ ابوداؤد شریف، باب الشھادة علی الرضاع،ج ٢ ،ص ١٥١، نمبر ٣٦٠٣) اس حدیث میں صرف ایک باندی کی گواہی سے نکاح توڑنے کا حکم دیا کیونکہ دودھ پلانے پر جہاںمرد مطلع نہیں ہو سکتا ہو ایک عورت کی گواہی قابل قبول ہے(٢) اثر میں ہے ۔عن الشعبی قالوا تجوز شھادة امرأة واحدة فیما لا یطلع علیہ الرجال (ب) (مصنف ابن ابی شیبة، ٨٢ ما تجوز فیہ الشھادة النساء ،ج رابع، ص ٣٣٥،نمبر ٢٠٧٠٥ مصنف عبد الرزاق، باب شھادة المرأة فی الرضاع والنفاس ، ج ثامن ، ص ٣٣٣، نمبر ١٥٤٢٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ جہاں مرد مطلع نہیں ہو سکتے ہوں وہاں ایک عورت کی گواہی کافی ہے۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان معاملوں میں بھی چار عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔
وجہ معاملات میں دو مرد کی گواہی ضروری ہے۔ اور گواہی میں ایک مرد کے لئے دو عورتیں ہوتی ہیں اس لئے دو مرد کے مقابلے میں چار عورتیں ہوںتب گواہی مقبول ہوگی(٢) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔ عن عطاء بن ابی رباح قال لا یجوز الا اربع نسوة فی الاستہلال (ج) (سنن للبیہقی، باب ماجاء فی عددھن ،ج عاشر ، ص ٢٥٤، نمبر ٢٠٥٤١ مصنف عبد الرزاق، باب شھادة المرأة فی الرضاع والنفاس ،ج ثامن ، ص ٣٣٢، نمبر ١٥٤٢١ مصنف ابن ابی شیبة، ٨٢ ما تجوز فیہ شھادة النسائ، ج رابع، ص ٣٣٥ ،نمبر ٢٠٧٠٦) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ولادت وغیرہ میں بھی چار عورتوں کی گواہی چاہئے۔
]٢٨١٧[(٨)اور ضروری ہے ان تمام میں عادل ہونا اور لفظ شہادت، پس اگر گواہ نے لفظ شہادت ذکر نہیں کیا اور کہا کہ میں جانتا ہوں یا مجھے یقین ہے تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
تشریح گواہی دینے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ گواہ عادل ہو اور دوسری بات یہ کہ گواہ گواہی دیتے وقت اشھد کا لفظ استعمال کرے۔ اگر اشھد کے بجائے یوں کہے کہ میں جانتا ہوں یا مجھے یقین ہے تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
وجہ آیت میں تاکید ہے کہ گواہ عادل ہو۔آیت یہ ہے۔ واشھدوا ذوی عدل منکم واقیموا الشھادة للہ ذلکم یوعظ بہ (د) (آیت ٢،سورة الطلاق ٦٥) دوسری آیت میں ہے۔ یا ایھا الذین آمنوا شھادة بینکم اذا حضر احدکم الموت حین الوصیة
حاشیہ : (الف) عقبہ بن حارث سے سنا کہ انہوں نے ام یحیی بنت ابی اہاب سے شادی کی، فرماتے ہیں کہ ایک کالی باندی آئی اور کہنے لگی کہ میںنے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے اس کا تذکرہ حضورۖ سے کیاتو آپۖ نے مجھ سے اعراض کر لیا۔ میں نے دوسرے کنارے جاکر پھر اس کا تذکرہ کیا تو آپۖ نے فرمایا کیسے ہوگا ؟ وہ باندی گمان کرتی ہے کہ تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ؟ پھر آپۖ نے اس عورت سے روک دیا(ب)حضرت شعبی سے روایت ہے کہ لوگ فرماتے ہیں کہ ایک عورت کی گواہی وہاں جائز ہے جہاں مردمطلع نہ ہو سکتے ہوں(ج) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ ولادت میں چار عورتوں کے بغیر گواہی جائز نہیں(د) تم میں سے یعنی مسلمانوں میں سے عادل آدمی کی گواہی لو۔اور اللہ کے لئے گواہی قائم کرو ،اس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔