الحقوق تُقبل فیھا شھادة رجلین او رجل وامرأتین سواء کان الحق مالا او غیر مال مثل النکاح والطلاق والوکالة والوصیة]٢٨١٦[(٧) وتقبل فی الولادة والبکارة والعیوب
اثر میں ہے۔ان عمر بن الخطاب اجاز شھادة رجل واحد مع نساء فی نکاح (الف) (مصنف عبد الرزاق، باب ھل تجوز شھادة النساء مع الرجال فی الحدود وغیرہ؟،ج ثامن، ص ٣٣١، ١٥٤١٦ مصنف ابن ابی شیبة،٣٩٧ فی شھادة النساء فی العتق والدین والطلاق ، ج رابع ،ص ٥١٧،نمبر ٢٢٦٨١ دار قطنی ، کتاب الاقضیة والاحکام، ج رابع، ص ١٤٩، نمبر ٤٥١٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ طلاق نکاح وغیرہ میں بھی عورتوں کی گواہی مقبول ہے۔
فائدہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مال اور اس کے توابع میں عورتوں کی گواہی مقبول ہے۔ نکاح،طلاق غیرہ میں نہیں۔
وجہ اوپر اثر گزرا۔ان علی بن ابی طالب قال لاتجوز شھادة النساء فی الطلاق والنکاح والحدود (ب)(مصنف عبد الرزاق،باب ھل تجوز شھادة النساء مع الرجال فی الحدود وغیرہ؟ ،ج ثامن ،ص٣٢٩، نمبر ١٥٤٠٥ مصنف ابن ابی شیبة،١٠٩ فی شھادة النساء فی الحدود ،ج خامس، ص ٥٢٨،نمبر ٢٨٧٠٧ سنن للبیہقی، باب الشھادة فی الطلاق والرجعة وما فی معناھما من النکاح والقصاص والحدود،ج عاشر، ص ٢٥٠، نمبر ٢٠٥٢٨) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عورت کی گواہی طلاق اورنکاح میں بھی مقبول نہیں ہے۔اس لئے وہ صرف دین میں گواہی دے سکتی ہے۔
]٢٨١٦[(٧) ولادت اور باکرہ ہونے میں اور عورتوں کے ان جگہ کے عیوب میں جہاں مرد مطلع نہیں ہو سکتے ایک عورت کی گواہی قبول کی جائے گی۔
تشریح بچہ پیدا ہوتے وقت مردبیوی اور باندی کے علاوہ عورتوں کو نہیں دیکھ سکتا۔اسی طرح عورت باکرہ ہے یا نہیں مرد اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ اس لئے جہاں مرد نہیں دیکھ سکتا ہو وہاں صرف عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اسی طرح شرمگاہ وغیرہ کی بیماری جس پر مرد مطلع نہیں ہو سکتا اس کے بارے میں ایک عورت کی گاہی کافی مانی جائے گی۔ اور اسی پر فیصلہ کیا جائے گا۔
وجہ (١) حدیث میں ہے کہ ایک دائی کی گواہی مقبول ہے۔عن حذیفة ان رسول اللہ ۖ اجاز شھادة القابلة (ج) (در قطنی، کتاب الاقضیة والاحکام ،ج رابع،ص ١٤٩،نمبر ٤٥١١ سنن للبیہقی،باب ماجاء فی عددھن (ای عدد النسائ) ،ج عاشر ، ص ،٢٥٤،نمبر٢٠٥٤٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائی کی گواہی مقبول ہے(٢) حدیث میں ہے کہ باندی نے دودھ پلانے کی گواہی دی تو اس کی وجہ سے نکاح توڑ دیا۔حدثنی عقبة بن الحارث او سمعتہ منہ انہ تزوج ام یحیی بنت ابی اھاب قال فجاء ت امة سوداء فقالت قد ارضعتکما فذکرت ذلک للنبیۖ فاعرض عنی قال فتنحیت فذکرت ذلک لہ قال وکیف وقد زعمت انھا قد
حاشیہ : (الف) حضرت عمر نے عورتوں کے ساتھ ایک مرد کی گواہی جائز قراردی نکاح میں(ب) حضرت علی نے فرمایا عورتوں کی گواہی جائز نہیں ہے طلاق،نکاح اور حدود میں(ج) آپۖ نے دائی کی گواہی کی اجازت دی یعنی اس کو قبول فرمایا ۔