Deobandi Books

شرح ثمیری شرح اردو قدوری جلد 4 - یونیکوڈ

141 - 485
الرجال ولا تقبل فیھا شھادة النسائ]٢٨١٤[(٥) ومنھا الشھادة ببقیة الحدود والقصاص تقبل فیھا شھادة رجلین ولا تقبل فیھا شھادة النسائ]٢٨١٥[(٦) وما سوی ذلک من 

خامس،ص٥٢٨،نمبر ٢٨٧٠٥ مصنف عبد الرزاق،باب ھل تجوز شھادة النساء مع الرجال فی الحدود وغیرہ؟،ج ثامن،ص ٣٣٠،نمبر ١٥٤١٢ سنن للبیہقی،باب شہادة فی الطلاق والرجعة وما فی معناھما من النکاح والقصاص والحدود،ج عاشر، ص ٢٥٠، نمبر٢٠٥٢٨) اس حدیث مرسل اور اثر سے معلوم ہوا کہ حدود میں عورتوں کی گواہی مقبول نہیں ہے۔
]٢٨١٤[(٥) ان سے شہادت ہے باقی حدود کی اور قصاص کی کہ ان میں دو مردوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے اور ان میں عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ 
تشریح  زنا میں تو چار مردوں کی گواہی چاہئے۔ان میں عورتوں کی گواہی مقبول نہیں ہے۔اور باقی حدود اور قصاص میں بھی عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔صرف مردوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔ 
وجہ  حدود کے بارے میں اوپر حدیث مرسل گزر چکی ۔ قصاص بھی اسی درجے کا ہے  اس لئے قصاص میں بھی عورت کی گواہی مقبول نہیں ہے (٢)اس اثر میں بھی اس کا ثبوت ہے۔ ان علی بن ابی طالب قال لا تجوز شھادة النساء فی الطلاق والنکاح والحدود والدمائ(الف) (مصنف عبد الرزاق، باب ھل تجوز شھادةالنساء مع الرجال فی الحدود وغیرہ؟ ،ج ثامن ،ص ٣٢٩، نمبر ١٥٤٠٥ مصنف ابن ابی شیبة ١٠٩،فی شھادة النساء فی الحدود،ج خامس،ص ٥٢٨ ، نمبر ٢٨٧١١)اس اثر میں دم سے مراد قصاص ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ قصاص میں بھی عورتوں کی گواہی مقبول نہیں ہے (٣) آیت میں عورت کے بارے میں بتایا کہ ایک دوسرے کو یاد دلائے جس سے معلوم ہوا کہ عورتوں میں نسیان ہے۔اور حدود اور قصاص شبہ سے بھی ساقط ہو جاتے ہیں۔اس لئے بھی عورت کی گواہی حدود اور قصاص میں مقبول نہیں ہے۔
]٢٨١٥[(٦)اور جو ان کے علاوہ ہوں حقوق میں سے تو قبول کی جائے گی ان میں دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی۔چاہے حق مال ہو یا غیرمال ہو۔مثلا نکاح،طلاق،وکالت،وصیت۔
تشریح  حدود اور قصاص کے علاوہ جتنے حقوق ہیں چاہے وہ حقوق مالی ہوں یا حقوق غیر مالی ہوں ان سب میں مرد کے ساتھ عورتوں کی گواہی بھی مقبول ہے۔مثلا معاملات،بیع ہے، شراء ہے،نکاح، طلاق،وکالت اوروصیت ہے ان سب میں عورتوں کی گواہی بھی مقبول ہے۔
وجہ  آیت میں اس کا ثبوت ہے۔ واستشھدوا شہیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشھداء ان تضل احداھما الاخری(ب) (آیت٢٨٢،سورة البقرة٢) اس آیت میں ہے کہ دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قابل قبول ہے۔ یہ آیت چونکہ معاملات کے سلسلے میں ہے اس لئے تمام ہی معاملات میں عورتوں کی گواہی مقبول ہوگی(٢) 

حاشیہ  :  (پچھلے صفحہ سے آگے) کے بعد دونوں خلیفوں کے زمانے سے سنت جاری ہے کہ حدود میں عورتوں کی گواہی جائز نہیں ہے(الف)حضرت علی نے فرمایا کہ عورتوں کی گواہی طلاق ،نکاح، حدود اور قصاص میں جائز نہیں ہے(ب)تمہارے دو مردوں کی گواہی لو۔پس اگر مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کی گواہی سے تم راضی ہو تاکہ ایک بھول جائے تو ایک دوسری کو یاد دلائے۔

Flag Counter