افضل ]٢٨١٢[ (٣) الا انہ یجب ان یشھد بالمال فی السرقة فیقول اخذ المال ولایقول سرق]٢٨١٣[(٤) والشھادة علی مراتب منھا الشھادة فی الزنا یُعتبر فیھا اربعة من
امیة المخزومی ان رسول اللہ اتی بلص اعترف اعترافا ولم یوجد معہ متاع فقال رسول اللہ ۖ ما اخا لک سرقت؟ قال بلی (الف) (النسائی ،باب تلقین السارق، ص ٦٧٢،نمبر ٤٨٨١ ابو داؤد شریف، باب فی التلقین فی الحد ،ص ٢٥٤،نمبر ٤٣٨٠)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حد کا اعتراف بھی کرے تو اس کو رد کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جس سے معلوم ہوا کہ گواہی نہ دینا بہتر ہے۔
لغت الستر : چھپانا۔
]٢٨١٢[(٣)مگر یہ کہ چوری میں مال کی گواہی دینا واجب ہے۔اس لئے کہے کہ مال لیا اور نہ کہے کہ چرایا۔
تشریح چوری میں دو حیثیتیں ہیں ۔ایک ہے ہاتھ کٹنے کا جو حد ہے اور دوسرا ہے مالک کو مال واپس کرنے کا جو حقوق العباد ہے۔ اس لئے دونوں کی رعایت کرتے ہوئے ایسی گواہی دے کہ ہاتھ بھی نہ کٹے اور مالک کو مال بھی واپس مل جائے۔ اس لئے اس کی صورت یہ ہے کہ یوں نہیں کہے کہ مال چرایا ہے بلکہ یوں گواہی دے کہ فلاں کا مال لیا ہے۔
وجہ تاکہ مال مالک کو واپس ملے اور ہاتھ نہ کٹے۔
]٢٨١٣[(٤)گواہی کے چند مرتبے ہیں۔ان میں سے زنا کی گواہی ہے۔اس میں اعتبار کیا جاتا ہے چار مرد اور نہیں قبول کی جاتی ہے اس میں عورت کی گواہی۔
تشریح پہلے گزر چکا ہے کہ گواہی کے چھ مرتبے ہیں۔ان میں سے اعلی مرتبہ زنا کی گواہی ہے جن میں چار عادل مردوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے۔ اس میں عورت کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔
وجہ چار گواہ کی دلیل یہ آیت ہے۔والتی یأتین الفاحشة من نسائکم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت (ب) (آیت ١٥، سورة النسائ٤) دوسری آیت میں ہے۔لولا جاء و علیہ باربعة شھداء فاذ لم یأتوا بالشھداء فاولئک عند اللہ ھم الکاذبون (ج) (آیت ١٣، سورة النور ٢٤) ان دونوں آیتوں میں ہے کہ زنا کے ثبوت کے لئے چار گواہ چاہئے۔
عورتوں میں حدود کی گواہی قابل قبول نہیں ہے اس کی دلیل یہ حدیث مرسل ہے ۔ عن الزھری قال مضت السنة من رسول اللہ ۖ والخلیفتین من بعدہ الا تجوز شھادة النساء فی الحدود (د) (مصنف ابن ابی شیبة ١٠٩، فی شھادة النساء فی الحدود ،ج
حاشیہ : (الف) آپۖ کے پاس ایک چور لایا گیا۔ اس نے چوری کا اقرار کیا اور اس کے پاس سامان نہیں پایا گیا تو آپۖ نے فرمایا میرا خیال نہیں ہے کہ تم نے چرایا ہے۔انہوں نے کہا کیوں نہیں؟(ب) تمہاری عورتوں میں سے کوئی زنا کی مرتکب ہو تو اپنے میں سے اس پر چار گواہ لاؤ۔پس وہ گواہی دیدیں تو گھروں میں قید رکھو (ج) کیوں اس پر چار گواہ نہیں لائے ۔پس اگر وہ گواہ نہیں لائے تو وہ اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں (د) حضرت زہری نے فرمایا کہ حضورۖ اور ان(باقی اگلے صفحہ پر)