اِس اُصول کو بریلوی علماء بھی تسلیم کرتے ہیں چنانچہ جناب اَحمد رضا خان صاحب سے ایک بار پوچھا گیا کہ بعض علاقوں میں لوگ نماز ِعید اَور نماز ِاِستسقاء کو جاتے ہوئے علَم (جھنڈا) لے کر عید گاہ تک جاتے ہیں، اِس کا کیا حکم ہے؟ تو اُنہوں نے اِس کو جائز اَور مباح قرار دینے کے بعد لکھا :
''ہاں جہاں اِس سے کوئی محذورِ شرعی (شرعی طور پر کوئی غلط کام ) پیدا ہوتا ہو مثلاً جن بِلاد (شہروں) میں محرم کے علَم (جو شیعہ نکالتے ہیں) رائج ہیں عوام اُس کو اِن سے سمجھیں یا اُس سے اِن کے جواز پر اِستدلال کریں اَور فرق سمجھانے کی ضرورت پڑے وہاں اِس سے اِحتراز ہی کیا جائے کہ کوئی اَمر ضروری نہیں اَور اِحتمالِ فتنہ و فساد ِعقیدہ ہے ،نہ ہر ایک کو سمجھا سکیں اَور نہ ہر ایک سمجھانے سے سمجھے گا تو ایسی بات کرنی کیا ضروری ہے؟ حدیث میں اِرشاد ہوا ''اِیَّاکَ وَمَا یَعْتَذِرُ مِنْہُ '' (یعنی جن چیزوں کے کرنے سے لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہو اُن سے پرہیز کرو تاکہ بعد میں عذر نہ کرنا پڑے۔'' ( عرفانِ شریعت حصہ دوم ص ٤٧)
اِسی طرح عوام میں ایک نماز صلاة الرغائب کے نام سے رائج تھی جسے رجب کے مہینہ میں لوگ جماعت کے ساتھ معراج کی رات میں پڑھا کرتے تھے۔ نیز شب ِبراء ت اَور شب ِقدر میں بھی لوگ صلاة البراء ة اَور صلاة القدر بڑے اِہتمام اَور جماعت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ فقہائِ کرام نے اِس اِہتمام اَور جماعت کے ساتھ اِن نفل نمازوں کو پڑھنے سے روک دیا۔ بریلویوں کے اِمام جناب اَحمد رضا خان صاحب اِس کی وجہ بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
''متاخرین کا اِن (صلاة الرغائب، صلاة البراء ة اَور صلاة القدر) پر اِنکار اِس نظر سے ہے کہ عوام اِن نمازوں کو سنت نہ سمجھیں۔'' ( فتاویٰ رضویہ ج ٣ ص ٤٨٥)
اَحمد رضا خان صاحب کی اِس عبارت نے بتا دیا کہ علمائِ کرام نے اِن نمازوں کے پڑھنے سے محض اِس لیے روکا ہے کہ اِن کے پڑھنے سے عوام اِس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ یہ نمازیں سنت ہیں اَور عوام کو اِس غلط نظریہ (کہ یہ نمازیں سنت ہیں) سے بچانے کے لیے علمائِ کرام نے اِن نمازوں کو