ہے، ایسا شخص اپنے ایمان کی خیر منائے، اﷲ کے آگے روئے تاکہ اس پر اﷲ کی رحمت ہو اور اﷲ دین کی سمجھ عطا فرمائے۔
فہمِ دین صحبتِ اہل اﷲ سے ملتی ہے
ایک من علم کے لیے دس من عقل و فہم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے علم کے ساتھ ساتھ اﷲ والوں کی صحبتوں سے دین کی سمجھ بھی حاصل کرنی چاہیے، خالی علم سے ذہن میں وہ تیزی، ذکاوت اور نورانیت نہیں آتی جب تک اہل اﷲ کی صحبت نہ اختیار کریں۔دین کی سمجھ کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ حضر ت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے کہا کہ میری شادی کے لیے دعا کریں۔ حضر ت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ استغفار کیا کرو۔ کسی نے پوچھا کہ حضرت! استغفار سے شادی کا کیا تعلق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے سورۂ نوح میں وعدہ فرمایا ہے:
اِسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا وَّیُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا 2؎
تم اپنے رب سے استغفار کرو، وہ بڑے غفور اور رحیم ہیں۔ آسمان سے بارش نازل ہوگی، قحط دور ہوگا اور مال و اولاد بھی دیں گے۔ باغات بھی دیں گے اور نہریں بھی دیں گے۔ اس نے کہا حضرت! اس میں ایسا تو کوئی ذکر نہیں آیا کہ شادی بھی ہو گی اور بیوی بھی ملے گی تو حضر ت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم بڑے عجیب آدمی ہو، کیا اولاد کا وعدہ نہیں ہے؟ تو جب اولاد دیں گے تو بیوی کے بغیر دیں گے؟ جب اولاد کا وعدہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ شادی ہو گی تب ہی تو اولاد ملے گی۔ یہ ہے تفقہ اور علم میں برکت جو اہل اﷲ کی صحبتوں سے حاصل ہوتی ہے، لوگ یہ آیتیں پڑھتے رہتے ہیں لیکن کسی کا ذہن اس طرف نہیں گیا کہ استغفار کرنے پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے شادی ہونے اور بیوی ملنے کا بھی اعلان ہے۔ اسی ذکاوت اور تفقہ پر ایک اور واقعہ یاد آگیا۔علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن
_____________________________________________
2؎ نوح: 10 ۔ 12