Deobandi Books

گناہوں سے بچنے کا راستہ

ہم نوٹ :

6 - 34
گناہوں سے بچنے کا راستہ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی اَمَّا بَعْدُ
فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
 بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ ذَکِّرۡ فَاِنَّ  الذِّکۡرٰی تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ1؎
اﷲ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے نبی( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ و سلم)! آپ نصیحت فرمائیں، نصیحت ایمان والوں کو مفید ہوتی ہے۔ بس دوستو! اسی وجہ سے یہ محفل منعقد کی جاتی ہے تاکہ قرآنِ پاک،حدیثِ پاک، فقہائے کرام، علمائے دین، مشایخ اور اپنے بزرگوں کی باتیں سنائی جائیں۔ اس سے نصیحت کرنے والے کو بھی نصیحت ہوتی ہے اور آپ کو بھی نصیحت ملتی ہے، کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا وَذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے۔ 
چناں چہ مقرر کوبھی نفع ہوتا ہے کیوں کہ وہ بھی تو مومن ہے ، وہ بھی سوچے گا کہ میں کیا بیان کرتا ہوں اور کیا عمل کرتا ہوں، اپنے قول و فعل میں توازن قائم کرے گا، استغفار کرے گا، اﷲ تعالیٰ سے روئے گا اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی فکر کرے گا۔اس آیت کے ذیل میں علامہ شعرانی الیواقیت والجواہر میں لکھتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ مجھ پر کسی کی نصیحت اثر نہیں کرتی، میں چکنا گھڑا ہوں، مجھ پر کتنا بھی پانی بہاؤ کوئی اثر نہیں ہوتا، مجھے کسی وعظ و نصیحت سے نفع نہیں ہوتا حالاں کہ اﷲ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ ایمان والوں پر نصیحت اثر کرتی ہے اور تم کہتے ہو کہ مجھ پر نصیحت اثر نہیں کرتی، تو معلوم ہوا کہ تمہارے ایمان میں شبہ 
_____________________________________________
1؎   الذّٰریٰت:55
Flag Counter