اس کے بعد اس نے پتھر پر آدھا گھنٹہ گھسا، تو اس آدھے گھنٹے کی مزدوری دیتے ہو یا نہیں؟ کیاآپ کہہ سکتے ہیں کہ اتنی دیر تک تو تم نے اوزار تیز کیا، لہٰذا اس آدھے گھنٹے کی مزدوری نہیں دوں گا؟ تو وہ کہے گا کہ آپ ہی کے کام میں تو اوزار گھسا ہے، آپ ہی کا تو دروازہ بنارہا ہوں۔ تو جو علمائے دین اﷲ تعالیٰ کا دین پھیلانے میں اپنے دماغ کو تھکا دیتے ہیں ان کا سونا بھی عبادت ہے، تاکہ تازہ دم ہوکر پھر اور دین پھیلائیں۔ ان میں بعض کے لیے تہجد جائز نہیں، اگر وہ تہجد پڑھ لیں اور دن بھر دین سیکھنے کے لیے مجمع آئے، جیسے آپ لوگ آگئے اور میں کہوں کہ صاحب رات بھر عبادت اتنی زیادہ کی ہے کہ آپ کو پڑھانے کی اب تاب نہیں، آپ لوگ تشریف لے جائیے۔ تو کیا اﷲ تعالیٰ اس سے خوش ہوں گے؟ ایک بادشاہ اپنے بچوں کا استاد مقرر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو اچھی طرح سے پڑھانا۔ وہ آیا اور بادشاہ کے لڑکوں سے کہا کہ دیکھو آج معاف کرنا، رات بھر مجھے سجدے میں بڑا مزہ آیا، رات بھر روتا رہا، ٹھیک سے پڑھایا نہیں، سارا وقت جھپکی لیتا رہا اور چلا گیا۔ تو جب بادشاہ کو خبر ہوگی تو بادشاہ دے گا اُس کو انعام؟ مولانا شاہ محمد احمد صاحب نے فرمایا تھا کہ بعض بندے ایسے ہیں کہ جن کے لیے اﷲ تعالیٰ فرشتہ بھیجتا ہے کہ اس کے پیر دباؤ تاکہ وہ سوتا رہے، اٹھنے نہ پائے، میرا بندہ دن بھر کاتھکا ہوا ہے۔ تو وہ سویا ہوا بوجہ تقویٰ کے اﷲ کو بعض تہجد پڑھنے والوں سے زیادہ پیارا ہے ۔ آپ سوچئے! آپ کا ایک ہی بیٹا ہو اور تھکا ہوا ہو، سر میں درد ہو، تو کیا آپ چاہیں گے کہ وہ رات کو بھی اٹھ کر ابا کی ٹانگ دبائے یا آپ چاہیں گے کہ اس کے سر میں مالش کرو؟ اپنے نوکر سے کہیں گے کہ دیکھو! ہمارا بیٹا آج تھکا ہوا ہے، ذرا اس کے سر پر بادام کا تیل لگاؤ، تاکہ اس کو خوب اچھی طرح نیند آئے۔ پس بعضوں کا سونا دوسروں کی عبادت سے افضل ہوتا ہے۔
تو یہ آج کا سبق ختم ہے، ان شاء اﷲیہ مزہ کل پھر چلے گا، اﷲ تعالیٰ ہم سب کے قلب میں یہ علوم محفوظ فرمائے۔ ایک تو خالی علم ہے اور ایک علم کے ساتھ ساتھ کیفِ علم بھی ہے، کیفِ علم سب کو نہیں ملتا، خشک ملّا خشک زاہد کو کیفِ علم نہیں ملتا۔ چناں چہ مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کے سامنے میں نے بیت اﷲ میں ایک دفعہ مثنوی کی شرح بیان کی، تو حضرت نے فرمایا کہ تمہاری مثنوی کی شرح سے میرے سر میں جو درد تھا وہ سب چلا گیا، طبیعت منشرح ہوگئی۔ اور الٰہ آباد میں میں نے تھوڑی سی روح المعانی کی تفسیر بیان کی تو