سے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔‘‘
حشر کی ہولناکیاں:
قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو اتنی ہول ناکیاں درپیش ہوں گی کہ پہلے کے حالات سب بھول جائیں گے۔ اس قبر کو مرقد کہہ رہے ہوں گے، یعنی سونے کی جگہ زمین پوری کی پوری ایک تختہ بنا دی جائے گی۔
لاَ تَرٰی فِیْھَا عِوَجًا وَّلاَاَمْتًا
ترجمہ: ’’نہ کوئی موڑ نظر آئے گا اورنہ کوئی ٹیلہ نظر آئے گا۔‘‘
یہ تیسرا مرحلہ شروع ہوگا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر آدمی اپنے گناہوں کے پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا۔ سو انیزے پر سورج ہوگا، تپش ہوگی، پیاس ہوگی، اور پچاس ہزارسال کا ایک دن ہوگا اور فرمایا کہ کسی کا پسینہ ٹخنے تک، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا کمر تک، کسی کا بغل تک اور بعض کا پسینہ اس کو لگام دے رہا ہوگا یعنی ناک تک جارہا ہوگا۔ لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوںگے، پریشان حال ہوں گے، کس کے پاس جائیں، کس کے سامنے فریاد کریں؟ اولین اور آخرین سب جمع ہوں گے، ایک دوسرے کے سامنے ہوںگے۔ یہاں پھر چھپ چھپ کر جو عمل کیے تھے وہ سب ظاہر کردیئے جائیں گے اور پھر اس قیامت کے دن کے اتنے مناظر ہیں۔ اتنے بے شمار منازل ہیں، اتنے بے شمار مراحل ہیں جن کا کوئی حساب ہی نہیں قرآن کریم میں ہے۔
یَوْمْ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ
ترجمہ: ’’جس دن لوگ ہوجائیں گے ایسے جیسے پتنگے ہوتے ہیں۔‘‘
آگ جلاتے ہیں تو پتنگے جمع ہوجاتے ہیں۔ کوئی ادھر جارہا ہے، کوئی ادھر جارہا ہے۔ آپس میں ٹکراتے ہیں۔ لوگ اس طرح حیران و پریشان ہوںگے، حساب و کتاب کے بغیر پریشان پھر رہے ہیں کہ کہاں جائیں کہاں نہ جائیں؟ کیا کریں اور کیا نہ کریں؟ حدیث شریف میں آتا ہے کہ لوگ حساب و کتاب کی بندش، قیامت کے دن کی ہول ناکیوں سے اور انتظام کی شدت سے اتنے تنگ ہوجائیں گے کہ کہیں گے کہ ہمیں دوزخ میں ڈال دیا جائے، لیکن اس مصیبت سے نجات مل جائے۔ نعوذباللہ۔ استغفر اللہ۔ دوزخ تو دیکھی نہیں، دوزخ تو ابھی آنے والی ہے، اس لیے قیامت کی شدت سے دوزخ کی تمنا کرتے ہوں گے۔ علماء لوگوں کو کسی شفیع کے تلاش کرنے کا مشورہ دیں گے۔ بہرحال قیامت کی سختی کے وقت لوگ آپس میں کہیں گے کہ ہم دنیا میں کسی مشکل کے وقت علماء سے فتویٰ پوچھا کرتے تھے، آج بھی علماء سے فتویٰ پوچھیں۔ چناںچہ علماء سے کہیں گے کہ تم ہمیں دنیا میں فتویٰ دیا کرتے تھے یہاں بھی ہمارا مسئلہ حل کرو! تو علماء کہیں گے ایک وفد لے کر کسی نبی کے پاس جاؤں اور کسی نبی سے کہو کہ شفاعت کریں۔ تو آدم علیہ السلام کے پاس جائیںگے،نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام کے پاس، سارے کے سارے انبیائے کرام جواب دے دیں گے۔
انبیائے کرام علیہم السلام کا شفاعت سے انکار کرنا:
حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیںگے اور ان سے کہیں گے کہ آپ وہ ہستی ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، جن کے سامنے فرشتوں سے سجدہ کروایا، جن کو اپنے اسماء کی تعلیم فرمائی، جن کو اپنی جنت میں ٹھہرایا، اور جن کو تمام اولاد آدم کا جداِ مجد بنایا، آج آپ کی اولاد پر مشکل وقت آن پڑا ہے۔ خدا کے لیے ہماری سفارش کیجیے، لیکن وہ فرمائیں گے۔
اِنِّیْ رَبِّیْ غَضَبَ الْیَوْمِ غَضَبًا لَمْ یَغْضُبْ قَبْلَہٗ مَثَلاً وَلاَ یَغْضَبْ بَعْدَہٗ مِثْلَہٗ وَاَنَّہٗ نَھَانِیْ عَنِّ الشَّجَرَۃِ فُعَصَیْتُ نَفْسِیْ، نَفْسِیْ، نَفْسِیْ اِذْھَبُوْااِلٰی غَیْرِیْ اِذْھَبُوْ اِلٰی نَوْح۔
ترجمہ: ’’ وہ کہیں گے کہ میرا رب آج اتنا غضب ناک ہے کہ نہ کبھی اس سے پہلے ہوا تھا نہ کبھی بعد میں ہوگا ’’نفسی نفسی نفسی‘‘ مجھے تو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں اور فرمایا کہ اپنی اس خطاء کو یاد فرمائیں گے کہ میں کیسے اپنے رب کے پاس جاؤں۔‘‘
حضرت آدم علیہ السلام کی طرح حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ