رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً2؎ کی دس تفسیریں ہیں: ان میں سے ایک ثَنَاءُ الْخَلْقِ2؎ ہے۔ پس جب مخلوق تعریف کرے تو سن کر اللہ کا شکر کرے کہ اے اللہ! تو نے میرے عیبوں کو چھپادیا اور بھلائیاں ظاہر کردیں اور لوگوں کی نگاہوں میں میری تقریر یا تحریر کو اچھا دکھادیا۔ ایسے وقت میں شکر کرنے سے تکبر سے بچ جائے گا،کیوں کہ تکبر سببِ بُعد ہے، اللہ سے دوری کا سبب ہے اور شکر سببِ قرب ہے، اللہ سے قرب کا سبب ہے اور سببِ قرب اور سببِ بُعد دونوں میں تضاد ہے اور اجتماعِ ضدین محال ہے اور یہ ہمارا ٹیلی فونک خطاب ہے جو کراچی سے ایک بار ساؤتھ افریقہ کیا گیا تھا ایک عالم کے جواب میں۔ پس جب تک تشکر کی کیفیت ہوگی کبھی تکبر پاس نہیں پھٹکے گا، کیوں کہ تشکر کبھی سببِ بُعد نہیں ہوسکتا۔ تکبر اللہ کی رحمت سے دور کرتا ہے، متکبر کو اللہ کی طرف دھیان نہیں رہتا،اپنے اوپر نظر ہوتی ہے کہ یہ میرا کمال ہے اور تشکر میں اپنے کمالات کی نسبت کا غلبہ اللہ کی طرف ہوتا ہے۔ تو اللہ کا شکر ادا کرے کہ اے اللہ! یہ آپ کا کرم ہے کہ آپ نے مجھے یہ سلیقہ عطا فرمایا کہ آج مخلوق میں میری تعریف ہورہی ہے،یہ آپ کی عطا اور آپ کا کرم ہے، میرا کمال نہیں۔
کبر کا ایک اور علاج
اس کے بعد حضرت والا کے خلیفہ جناب مولانا منصور الحق صاحب نے حضرت والا کے ارشادات کا انگریزی میں ترجمہ فرمایا۔ ترجمہ کے بعد حضرت والا نے مندرجہ ذیل ارشاد فرمایا: حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں اپنے کو تمام مسلمانوں سے کمترسمجھتا ہوں فی الحال یعنی موجودہ حالت میں اپنے کو تمام مسلمانانِ عالم سے کمتر سمجھتا ہوں۔ کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی فعل قبول ہوگیا ہو اور میرا کوئی فعل نامقبول ہو۔ کیوں کہ اس کا امکان ہے، اس لیے تمام مسلمانوں سے کمتر ہوں فی الحال۔ روزانہ دُعا میں اس جملہ کو بار بار کہو، بار بار کہنے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ اور دوسرا جملہ کہو کہ کافروں اور جانوروں سے، کتے اور سور سے کمتر ہوں فی المآل یعنی بہ اعتبار انجام کے، کیوں کہ اپنا انجام ابھی مجھے نہیں معلوم۔ اگر خاتمہ ایمان
_____________________________________________
2؎ البقرۃ:201
3؎ روح المعانی:91/2،البقرۃ(201)،داراحیاءالتراث، بیروت